رسائی کے لنکس

سوئیڈن کا 106 سالہ افغان خاتون کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ


اکتوبر 2015ء میں لی گئی تصویر جس میں سربیا کی سرحد کے نزدیک واقع کروشیا کے ایک مہاجر کیمپ میں رضاکار بی بی حال کو چلنے میں مدد دے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

بی بی حال ازبکی کا تعلق افغانستان کے شمال مشرقی صوبے قندوز سے ہے اور انہیں دنیا کی معمر ترین پناہ گزین سمجھا جاتا ہے۔

سوئیڈن کے حکام نے ایک 106 سالہ افغان مہاجر خاتون کی پناہ کی درخواست مسترد کردی ہے جس کے بعد انہیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سوئیڈن کی مائیگریشن ایجنسی کے حکام نے امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ پناہ کی درخواست مسترد ہوجانے کے بعد 106 سالہ بی بی حال ازبکی کو ملک بدر کیاجائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سوئیڈن کے قوانین کے تحت صرف عمر رسیدہ ہونے کی بنیاد پر کسی کو پناہ نہیں دی جاسکتی۔

بی بی حال ازبکی کا تعلق افغانستان کے شمال مشرقی صوبے قندوز سے ہے اور انہیں دنیا کی معمر ترین پناہ گزین سمجھا جاتا ہے۔

وہ اور ان کے اہلِ خانہ ان لاکھوں شامی، عراقی، افغان اور دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین میں شامل تھے جنہوں نے 2015ء اور 2016 میں اپنے آبائی ملکوں میں جاری تشدد اور خانہ جنگی کے باعث پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کیا تھا۔

اس طویل سفر کے دوران بی بی ازبکی کے بیٹے اور پوتے انہیں اپنی کمر پر لاد کر قندوز سے براستہ ایران اور ترکی، یورپ پہنچے تھے۔ اس معمر افغان خاتون کے سفر کو 2015ء میں یورپی ذرائع ابلاغ نے بہت کوریج دی تھی۔

بی بی حال ازبکی کی دو روز قبل سوئیڈن میں ان کے گھر میں لی گئی تصویر
بی بی حال ازبکی کی دو روز قبل سوئیڈن میں ان کے گھر میں لی گئی تصویر

بی بی ازبکی کے اہلِ خانہ نے یہ طویل سفر زیادہ تر پیدل طے کیا تھا اور وہ ترکی سے بلقان کے راستے ہوتے ہوئے سوئیڈن پہنچے تھے جہاں انہوں نے پناہ کی درخواستیں دائر کی تھیں۔

سوئیڈش حکام کے مطابق خاتون اور ان کے اہلِ خانہ کی درخواست مسترد کردی گئی ہیں جس کےبعد انہیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاہم بی بی ازبکی اور ان کے اہلِ خانہ کے پاس سوئیڈش امیگریشن حکام کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے حق ہے جس کی سماعت اور فیصلہ آنے میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

معمر افغان خاتون اور ان کے خاندان کے 11 افراد اس وقت وسطی سوئیڈن کے ایک گاؤں ہووا میں مقیم ہیں۔

بی بی ازبکی کے اہلِ خانہ کے مطابق پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد سے معمر افغان خاتون کی طبیعت مزید بگڑ گئی ہے اور ان کی حالت اس قابل نہیں کہ انہیں دوبارہ افغانستان لے جایا جاسکے۔

بی بی ازبکی کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ سوئیڈش حکام کی جانب سے ان کی پناہ کی درخواستیں مسترد کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG