رسائی کے لنکس

logo-print

سوئیڈن کی ماڈل نے کمر پتلی کرنے کے لیے پسلیاں نکلوادیں


سوئیڈش ماڈل پکسی فاکس پلاسٹک سرجری کی نئی کوئین قرار پاسکتی ہیں جنھوں نے پتلی کمر حاصل کرنے کی خاطر اپنی چھ پسلیاں جسم سے نکلوا دی ہیں۔

سوئیڈن سے تعلق رکھنے والی ایک ماڈل نے ہزاروں ڈالر اس مقصد کے لیے خرچ کیے ہیں کہ اس کی کمر باربی ڈول جیسی پتلی ہو جائے اور لوگ اسے ہیومن باربی ڈول کے نام سے یاد رکھیں۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکل آیا ہے۔

میڈیکل سائنس کے مطابق سوئیڈش ماڈل پکسی فاکس پلاسٹک سرجری کی نئی کوئین قرار پاسکتی ہیں جنھوں نے پتلی کمر حاصل کرنے کی خاطر اپنی چھ پسلیاں جسم سے نکلوا دی ہیں اور اب ان کی کمر محض 16 انچ کی رہ گئی ہے۔

اس مقصد کے لیے ماڈل فاکس نے امریکہ کے ایک اسپتال کو آپریشن کے لیے نو ہزار ڈالر ادا کیے جہاں سرجنوں نے ایک کامیاب آپریشن کے بعد ان کی دونوں جانب سے تین تین پسلیاں نکال دیں۔

ماڈل فاکس نے بتایا کہ لوگ انھیں حیرانی سے دیکھتے ہیں اور اکثر ان کے پاس آ کر کہتے ہیں کہ آپ برا مت مانیے گا کیونکہ آپ ایک کارٹون کی طرح نظر آتی ہیں۔ لیکن میرے لیے یہ ایک تعریفی جملہ ہے کیونکہ میں بچپن سے خود کو ڈزنی کے انہی کرداروں کی طرح دیکھنا چاہتی تھی۔

فاکس کے مطابق دیگر لڑکیوں کی طرح انہیں بھی بچپن سے ڈزنی کے کارٹون اور فلمیں دیکھنے کا شوق تھا اور بعد میں یہ ان کا جنون بن گیا۔

بقول فاکس کاسمیٹیکس سرجری کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد جو تبدیلیاں ان میں آئی ہیں اس کے بعد وہ ڈزنی کے کارٹون روجرز ریبٹ کے کردار کی انسان بیوی جیسیکا ریبٹ (خرگوش) جیسی لگتی ہیں۔

اپنے چہرے کو ہیومن باربی میں تبدیل کرنے کے لیے فاکس اب تک ناک، آنکھ اور بھنووں اور پپوٹوں کی سرجری کرا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ دیرپا میک اپ، ہونٹ اور رخسار کے لیے فلرز اور بوٹیکس اور دیگر کاسمیٹکس کی ادائیگی پر ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر خرچ کر چکی ہیں۔

فاکس دن کے چوبیس گھنٹے کمر پر ایک کور سیٹ پہنتی ہیں جب کہ انھیں اس آپریشن کے بعد اپنا وزن برقرار رکھنے کے لیے ورزش اور محدود ڈائیٹ پر سختی سے عمل کرنا ہے۔

فاکس کے مطابق ان کا مقصد دوسروں کو متاثر کرنا نہیں ہے تاہم وہ اگلے چند ہفتوں میں ایک بار پھر سے کولہوں کی سرجری کرانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

فاکس کے ڈاکٹر پلاسٹک سرجن بیری اپیلی کے بقول یہ ایک پیچیدہ آپریشن نہیں تھا لیکن اس آپریشن کا تجربہ کرنے کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو سرجیکل طریقہ کار کے بعد کی تکلیف، احتیاط اور پھر آپریشن کے نشانات کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو۔

پانچ گھنٹے کے اس آپریشن کے بعد فاکس کو چھ ہفتے کا صحت یابی کا وقت دیا گیا تھا لیکن فاکس دو ہفتے بعد ہی اپنی انتہائی نازک کمر کے ساتھ اپنی معمول کی مصروفیات انجام دینے لگی ہیں۔

انیسویں صدی میں پلاسٹک سرجری خاص طور پر چہرے کی عمل جراحی کو زیادہ رواج ملا ہے اور اس میدان میں نئی تکنیکس کے ایجاد ہونے کے بعد کئی طرح کے تجربات کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG