رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کے ساتھ مذاکرات میں ’رکاوٹیں‘ تاحال موجود ہیں: سفارت کار


سفارت کار نے معاہدے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے منگل کی حتمی تاریخ سے پہلے فیصلوں کی فوری نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’ہاں یا نا‘‘ کا وقت ہے۔

پیر کو سویٹزرلینڈ میں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔

معاہدے کے بنیادی خدوخال طے کرنے کی حتمی تاریخ 31 مارچ کے ختم ہونے سے قبل ایک مغربی سفارت کار نے بتایا کہ تین بڑے معاملات پر اتفاقِ رائے ہونا باقی ہے۔

سفارت کار نے صحافیوں کو لوزین میں بتایا کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس معاہدے کی میعاد کیا ہو گی، کتنی جلدی اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائیں گی، اور اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو پابندیاں کیسے دوبارہ عائد کی جائیں گی۔

سفارت کار نے معاہدے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے منگل کی حتمی تاریخ سے پہلے فیصلوں کی فوری نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’ہاں یا نا‘‘ کا وقت ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف پیر کو سویٹزرلینڈ میں امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس ملاقات میں فریقین ڈیڈلائن سے پہلے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک حتمی معاہدے کے لیے طریقہ کار پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سفارت کار منگل تک ایک ایسا طریقہ کار طے کرنا چاہتے ہیں جو ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے عوض اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔ ان پابندیوں سے ایران کی معیشت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ حتمی معاہدہ جون کے آخر تک طے کرنا ہو گا۔

افژودہ مواد

امریکی محکمہء خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پیر کو کہا تھا کہ اس بات پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ایران اپنے افژودہ مواد کے ذخیرے کو کیسے تلف کرے گا۔

ایران کے مرکزی مذاکرات کار عباس ارقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ افژودہ مواد تلف کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک بھیجنا ممکن نہیں۔

ایران کے پاس طبی تحقیق اور توانائی پیدا کرنے کے لیے کافی افژودہ مواد چھوڑنے کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس ذخیرے کی افژودگی کی طاقت کو کمزور کر دیا جائے تاکہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔

پیر کو ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات سے پہلے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ فیڈریکا مغرینی نے جان کیری سمیت چھ عالمی طاقتوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صدارت کی۔

اس اجلاس میں ہونے والی بات چیت کی معلومات عام نہیں کی گئیں مگر اس سے قبل جرمن وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹائنمائیر نے کہا تھا کہ ’’انتہائی اہم اور سنجیدہ مذاکرات‘‘ کی توقع ہے۔

XS
SM
MD
LG