رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے پناہ گزین سوا دولاکھ سے بڑھ گئے


ترکی میں شام کے پناہ گزین

یواین ایچ سی آر کی ترجمان خاتون میلسا فلمیمنگ کا کہناہے کہ صرف اگست کے مہینے میں ایک لاکھ شامی باشندوں نے جانیں بچانے کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ حاصل کی ہے

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یواین ایچ سی آر نے کہاہے کہ اس نے اب تک ترکی، اردن، لبنان اور عرق میں شام کے جن پناہ گزینوں کا اندراج کیا ہے، ان کی تعداد 2لاکھ 35 ہزار ہے۔

یواین ایچ سی آر کی ترجمان خاتون میلسا فلمیمنگ کا کہناہے کہ صرف اگست کے مہینے میں ایک لاکھ شامی باشندوں نے جانیں بچانے کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ حاصل کی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ اس سے ظاہرہوتا ہے پناہ گزینوں کی تعداد نمایاں طورپر بڑھ رہی ہے ، جس سے شام کے جاری تشدد کی شدید نوعیت کا اظہار ہوتا ہے۔

عالمی ادارے کا کہناہے کہ اس سال تقریباشام چھوڑنے والے باشندوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار ہے۔

اقوام متحدہ کا یہ ادارہ اپنا گھربار چھوڑنے والے شامی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے نئی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

ادھر شام میں پناہ حاصل کرنے والے عراقی بھی سینکڑوں کی تعداد میں اپنے ملک واپس جارہے ہیں۔اسی طرح شامی کرد بھی نقل مکانی کرکے عراق لوٹ رہے ہیں۔

یواین ایچ سی آر کا کہناہے کہ روزانہ تقریباً 500 پناہ گزین شام چھوڑ کر جارہے ہیں، جب کہ اس سے قبل 500 افراد ایک ہفتے میں جاتے تھے۔

فلیمنگ کہتی ہیں کہ پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ایک نیاپناہ گزین کیمپ قائم کیا جارہاہے۔

اسی طرح لبنان میں 59 ہزار سے زیادہ شامی پناہ گزین موجود ہیں، جن کی اکثریت پناہ گزین کیمپوں کی بجائے مختلف گھروں میں مقامی خاندانوں کے ساتھ رہ رہی ہے۔

فلیمنگ نے یہ بھی بتایا کہ ترکی میں 80 ہزار 400 کے لگ بھگ شامی پناہ گزین موجود ہیں، جب کہ بہت سے افراد شام کی سرحد پر ترکی میں داخلے کی اجازت ملنے کے منتظر ہیں۔
XS
SM
MD
LG