رسائی کے لنکس

logo-print

شام: حزب اختلاف کا پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان


پارلیمنٹ کی 250 نشستوں کے انتخابات، نئے آئین کے نفاذ کے تین ماہ بعد ہورہے ہیں جس کے تحت بعث پارٹی کے مقابلے کے لیے سیاسی پارٹیاں بنانے کی اجازت دی گئی ہے

شام کے جلاوطن راہنماؤں نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں ۔ انہوں نے مجوزہ انتخابات کو طاقت صدر بشارالاسد کے ہاتھوں میں رکھنے کا ایک حربہ قرار دیا۔

شام کی حکومت نے اصلاحات سے متعلق اپنی رضامندی کے اظہار کے لیے پیر کو انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ پارلیمنٹ کی 250 نشستوں کے انتخابات نئے آئین کے نفاذ کے تین ماہ ہورہے ہیں جس کے تحت بعث پارٹی کے مقابلے کے لیے سیاسی پارٹیاں بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔

لیکن صدر اسد کے مخالفین کا کہناہے کہ حزب اختلاف کے بغیر اصلاحات محض ایک ڈھونگ ہیں اور یہ کہ انتخابات بندوقوں کے سائے میں کروائے جارہے ہیں۔

گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والا ایک معاہدہ، جس کا مقصد صدر اسد کے خلاف تحریک کو کچلنے کے لیے 14 ماہ سے جاری پکڑ دھکڑ ختم کراناتھا، ناکام ہو گیا ہے۔ اور ملک بھر میں دونوں فریقوں کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

شام کی حزب اختلاف کی ایک اہم تنظیم نیشنل کوآری ڈی نیشن باڈی فار ڈیموکریٹک چینج کے سربراہ حاتم منا کا کہاہے کہ ہم مجوزہ الیکشن کے خلاف ہیں کیونکہ ان میں آزادانہ انتخابات کا کوئی ایک پہلو بھی موجود نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان انتخابات کی حیثیت ایک مذاق کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔انہوں نے اپنے ان خیالات کا اظہار برسلز میں کیا۔

انتخابی عہدے داروں نے کہاہے کہ پیر کے انتخابات میں شرکت کے لیے گیارہ نئی سیاسی جماعتوں نے رجسٹریشن کرائی ہے جن میں سے دس پارٹیاں نیشنل پراگریسو فرنٹ سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس اتحاد میں شامل اہم جماعت صدر بشارالاسد کی بعث پارٹی ہے۔

انتخابی عہدے داروں کی رپورٹ کے مطابق شام کی دوکروڑ 30 لاکھ کی آبادی میں سے ڈیڑھ کروڑ افراد ووٹر ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق جنوبی قصبے دائل کے مکینوں نے کسی بھی امیدوار کو پوسٹر چسپاں کرنے سے روک دیا ہے اور اس کی بجائے ان 20 افراد کی پوسٹر لگادیے ہیں جو حالیہ تحریک کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

گذشتہ سال مارچ میں صدر بشارالاسد کے خلاف شروع ہونے والی عوامی تحریک میں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اب تک نو ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG