رسائی کے لنکس

logo-print

شام: اقوام متحدہ کے پیش کردہ سمجھوتے کو نئی مشکلات کا سامنا


سکریٹری جنرل بان کی مون نے سولین آبادی پر حملے جاری رکھنے پر اسد حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوےٴ کہا ہے کہ جنگ بندی کی ڈیڈلائن کو بہانا بنا کر ہلاکتیں جاری رکھنا قابل معافی نہیں

یوں لگتا ہے جیسے اقوام متحدہ کے توسط سے پیش کردہ امن سمجھوتا خطرے میں ہے۔ اتوار کو ملک کے باغیوں کے کلیدی گروپ نے حکومت کے اِس مطالبے کو مسترد کردیا، جِس میں کہا گیا ہے کہ فوج نکالنےسے پہلے اُسے ’تحریری گارنٹی‘ درکارہوگی کہ باغی لڑائی روک دیں گے۔

’فِری سیریئن آرمی‘ کے باغی کمانڈر، ریاض الاسد نے اتوارکو کہا کہ اُن کا گروپ 10اپریل کےامن معاہدے کی پاسداری کرنے کو تیار ہے، لیکن ہتھیار حوالے کرنے پر کبھی تیار نہ ہوگا۔

قبل ازیں، شامی حکومت نے کہا کہ اُسےشہروں سے فوجیں نکالنے کی شق پر عمل درآمد سے قبل پختہ یقین دہانیاں چاہئیں کہ باغی لڑنا بند کردیں گے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان جہاد مقدیسی کا کہنا تھا کہ شام اُس بات کو دہرانے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا جس بات کا سامنا عرب لیگ کے مبصر مشن کو جنوری میں لاحق تھا، جب، اُن کے بقول، حکومت کی طرف سے فوجیں واپس بلائے جانے کے بعد باغیوں نے اپنے آپ کو دوبارہ مسلح کیا اور مضافات کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی کوفی عنان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُنھیں اُن حالیہ رپورٹوں پر ’دکھ ‘ پہنچا ہے، جِن میں کہا گیا تھا کہ تشدد کی کارروائیاں زور پکڑتی جاری ہیں اور متعدد قصبوں اور دیہات میں مظالم میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اُن کے اِس بیان سے ایک روز قبل شام کے کلیدی اپوزیشن گروپ نے رپورٹ دی تھی کہ ملک بھر میں تقریباً 130افراد ہلاک کیے گئے ہیں، جِن میں سے زیادہ تر شہری تھے۔ پھر یہ کہ اتوار کو سرگرم کارکنوں نے شامی فوجیوں پر ملک کے شمال اور وسطی حصوں میں حملوں کا الزام لگایا ہے، جِن میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے سولین آبادی پر حملے جاری رکھنے پر اسد حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ جنگ بندی کی ڈیڈلائن کو بہانا بنا کر ہلاکتیں جاری رکھنا قابل معافی نہیں۔

اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ 13ماہ قبل شروع ہونے والی سرکشی کے دوران اب تک شام میں 9000سے زائد افراد ہلاک کیے جاچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG