رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں فائربندی کی خلاف وزری، چھ اہل کار ہلاک، حمص پر گولہ باری


شام میں تقریباً ایک ہفتے سے جاری فائربندی بدھ کے روز اس وقت ٹوٹ گئی جب ایک بم دھماکے میں نفاذ قانون سے متعلق چھ عہدے دار ہلاک ہوگئے اور سرکاری فورسز نے حکومت مخالف مظاہروں کے ایک اہم مرکز حمص پر پھر سے گولہ باری شروع کردی۔

سرکاری خبررساں ادارے ’سانا‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مسلح دہشت گردوں کے ایک گروپ نے شمالی صوبے ادلب میں سڑک پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چھپ کر حملہ کرنے والے ایک نشانچی نے جنوبی شہر ردعا میں ایک پولیس اہل کار کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے بتایا ہے کہ سرکاری فورسز حمص کے مضافات میں مسلسل دباؤ بڑھارہی ہیں۔

شام کی حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ اگر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے سفارت کار کوفی عنان کے امن منصوبے پر معاہدے کے باوجود ان پر دہشت گردوں کی جانب سے حملے کیے گئے تو وہ ردعمل کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

امن منصوبے میں حزب اختلاف کے گروپوں سے بھی تشدد ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شام کے لیے انسانی حقوق کی تنظیم نے کہاہے کہ حزب اختلاف کی ایک تنظیم نے ملک کے اندر ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے، کہاہے کہ صدر اسد کی حامی فورسز نے منگل کے روز کم ازکم 23 عام شہریوں کو ہلاک کردیا ۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اقوام متحدہ کا امن مشن فائربندی کی نگرانی کے لیے وہاں موجود ہے۔

اقوام متحدہ کا کہناہے کہ شام میں مارچ 2011ء سے شروع ہونے والی پرتشدد پکڑ دھکڑ میں اب تک 9000 سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG