رسائی کے لنکس

شام: حکومتی تشدد کے خوف سے ہڑتال کی اپیل ناکام


شام: حکومتی تشدد کے خوف سے ہڑتال کی اپیل ناکام

بدھ کے روز شام کے عوام نے صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہروں کی اپیل پر اس خدشے کے پیش نظر زیادہ توجہ نہیں کہ حکومت ان پر سختی کرے گی۔ حالیہ دنوں میں حزب اختلاف کے مظاہروں کے خلاف حکومتی تشدد اور پکڑ دھکڑ سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

شام کے حکومت مخالف کارکنوں نے بدھ کے روز ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی تھی تاکہ صدر بشارالاسد کی حکومت پر دباؤ مزید بڑھایاجاسکے۔ لیکن دارالحکومت دمشق اور کئی دوسرے بڑے شہروں میں تعلیمی ادارے اور مارکیٹیں کھلی رہیں۔

حمص اور دمشق کے رہائشیوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ حکومت کی جانب سے سخت ردعمل کے خوف سے مظاہروں میں شرکت نہیں کرسکتے۔

ایک اور خبرکے مطابق عینی شاہدوں کا کہناہے کہ سرکاری فوجی دستے گھرگھر چھاپوں اور دمشق کے مضافاتی علاقے ڈوما ، جنوب میں واقع نوا اور مغربی علاقے تلکلخ میں بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں سیکیورٹی فورسز نے تلکلخ میں سخت کارروائیاں کی ہیں اور حزب اختلاف کا کہناہے کہ ان کارروائیوں میں گذشتے ہفتے سے اب تک27 افراد مارے جاچکے ہیں۔

حکومت مخالفین کا کہناہے کہ مارچ کے وسط میں مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اب تک850 سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں ، جب کہ سات ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جاچکاہے۔

مظاہرین سیاسی اصلاحات اور صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG