رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں حکومت مخالف مظاہرے اور تشدد کے واقعات


جمعے کے روز شام میں فائربندی کی خلاف ورزیوں کے مزید واقعات دیکھنے میں آئے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر گولیاں چلانے اور حکومت مخالفین کے مضبوط ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات ملی ہیں، جب کہ حکومت نے ایک ہلاکت خیز دھماکے کاالزام باغیوں پر لگایا ہے۔

سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ شام کے مختلف حصوں میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاج میں مظاہرین نے صدر بشارالاسد کی برطرفی کا مطالبہ کیا، جب کہ بعض علاقوں میں مظاہروں کے موقع پر سیکیورٹی اہل کاروں کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے کہا ہے کہ سرکاری فورسز نے دمشق میں مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسوگیس کے گولے پھینکے اور گولیاں چلائیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے حمص کے مختلف حصوں پر شدید گولہ باری کی۔ شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم سے منسلک ہوین کاکو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سرکاری فورسز شہری علاقوں کو نشانہ بنارہی ہیں ۔

کاکو نے یہ بھی بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے حمص اور حلب میں جمعے کے روز کئی عام شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

شام کے سرکاری میڈیا کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز درعا کے علاقے میں ایک بم پھٹنے سے 10 سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہوگئے۔

حکومت کا کہناہے کہ اس حملے میں مسلح دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔

XS
SM
MD
LG