رسائی کے لنکس

logo-print

شام سے تشدد کے خاتمے اور امدادی تنظیموں کو اجازت دینے کا مطالبہ


شام سے تشدد کے خاتمے اور امدادی تنظیموں کو اجازت دینے کا مطالبہ

شام کے صدر بشارالاسد سے کہا جائے گا کہ وہ فوری طورپر گیارہ مہینوں سے جاری پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں بند کرنے کے احکامات جاری کریں تاکہ 48 گھنٹوں کے اندر متاثرہ افراد تک امداد پہنچائی جا سکے

عرب اور مغربی ممالک کے وفود شام کے حکام سے یہ مطالبہ کرنے کے لیے تیونس میں اکٹھے ہوئے ہیں کہ وہ فوری طور پر ہرقسم کا تشدد ختم کرنے اور حالیہ دنوں میں بری طرح متاثرہونے والے علاقوں تک انسانی بھلائی کی غیر ملکی امداد پہنچانے کی اجازت دینے کا وعدہ کریں ۔

توقع کی جارہی ہے کہ جمعے کےروز ’فرینڈز آف سیریا‘ کے اجلاس میں پیش کرنے کے لیے تیار کیے جانے والے مسودے میں میں شام کے صدر بشارالاسد سے کہا جائے گا کہ وہ فوری طورپر گیارہ مہینوں سے جاری پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں بند کرنے کے احکامات جاری کریں تاکہ 48 گھنٹوں کے اندر متاثرہ افراد امداد پہنچائی جاسکے۔

وسطی شہر حمص کے رہائشیوں کا کہناہے کہ صدر اسد کی حامی افواج کی جانب سے مسلسل تین ہفتوں کی بمباری کے بعد وہاں خوراک ، پانی اور ادویات کی خطرناک حدتک قلت ہوچکی ہے ۔ اس شہر کو حکومت مخالف کارکنوں کے ایک مضبوط گڑھ کے طور پر دیکھاجاتا ہے۔

تنظیم ’ فرینڈز آف سیریا‘ یعنی شام کے دوست ممالک کا کہناہے کہ وہ شام پر پابندیاں لگانے کے عزم پر قائم ہیں جن میں سفرپر پابندی، اثاثوں کو منجمد کرنا اور شام کے تیل کی خریداری روکنا شامل ہے۔

70 سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے اس کانفرنس میں شرکت کریں گے، جن میں امریکہ کی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن بھی شامل ہیں۔ روس ارو چین نے کہاہے کہ وہ تیونس کے اجلاس میں شرکت نہیں کررہے ۔

کانفرنس سے قبل اقوام متحدہ نے اپنے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ وفد کے لیے نامزد کیا ہے۔

تیونس کے ترجمان نے جمعرات کو کہاتھا کہ اس کی حکومت شام کے تنازع کے حل کے لیے امن فوج کےقیام کی تجویز پیش کرے گی۔

XS
SM
MD
LG