رسائی کے لنکس

logo-print

عرب لیگ کے وزراء کی شام کے صدر سے ملاقات کی تیاری


صدر بشاالاسد کے خلاف ایک مظاہرے کی جھلک

عرب لیگ کے وزرا نے کہا ہے کہ وہ اتوار کو شام کے حکام سے ملاقات میں حکومت مخالف مظاہرین پر تشدد روکنے کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

وزرا نے یہ بھی کہا کہ آئندہ جمعہ کو قطر میں ہونے والے اجلاس میں سینئیر وزیروں کے ذریعے شام کے صدر بشارالاسد کو پیغام بھی بجھوایا جائے گا کہ وہ حزب مخالف کے احتجاج کو کچلنے کی کارروائیاں نا کریں۔

شام کے شہر حمص میں سکیورٹی فورسز نے تازہ کارروائیاں شروع کی ہیں۔ مقامی افراد اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو بکتر بند گاڑیوں میں سوار سرکاری افواج علاقے میں داخل ہوئیں اور شہر کے مرکزی حصے سے دھماکوں کی آوازیں سنی جاسکتی ہیں۔

حکومت کے مخالفین پر ہونے والا یہ تازہ کریک ڈاؤن اس واقعے کے ایک روز بعد کیا جا رہا ہے جس میں کارکنوں کے بقول سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں میں شامل 40 افراد کو ہلاک کردیا۔ زیادہ تر ہلاکتیں ہما اور حمص کے علاقوں میں ہوئیں۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان واقعات کے بارے میں ایک مختلف موقف پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسلح افراد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی جس سے کئی عہدیدار زخمی ہو گئے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ شام میں پر تشدد واقعات کے پیچھے مسلح افراد اور ’’دہشت گردوں‘‘ کا ہاتھ ہے۔

صدر بشالااسد کو حکومت مخالف مظاہریں کے خلاف کارروائی کے باعث عالمی برادری کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے ۔ اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ سات ماہ کے دوران حکومت مخالف مظاہروں میں 3000 ہزار سے افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حزب اختلاف نے جمعہ کو مظاہرین سے نو فلائی زون کی تحریک چلانے پر زور دیا ہے۔ سرگرم افراد نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ ملک میں عوام کو حکومتی فورسز سے بچانے کے لیے فضائی پابندیوں کی ضروت ہے۔

XS
SM
MD
LG