رسائی کے لنکس

logo-print

مخالفین پر فضائی حملے، شام پر اسلحے کی پابندی کا مطالبہ


۔ ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے کہا ہے کہ اُس نے چار عینی شاہدین سے گفتگو کی ہے، جنھوں نے بتایا کہ باغیوں کے زیر تسلط دوما کے قصبے کے قریب کوئی فوجی اہداف نہیں تھے جہاں 16 اگست کو فضائی حملے کیے گئے جن میں کم از کم 112 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تعداد شہریوں کی تھی

پچھلے ہفتے دمشق کے قریب ہونے والے فضائی حملوں میں درجنوں شہریوں کی ہلاکت کے بعد، انسانی حقوق کے ایک معروف گروپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت شام پر ہتھیاروں کی پابندی عائد کی جائے۔

’ہیومن رائٹس واچ‘ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اُس نے چار عینی شاہدین سے گفتگو کی ہے، جنھوں نے بتایا کہ باغیوں کے زیر تسلط دوما کے قصبے کے قریب کوئی فوجی اہداف نہیں تھے جہاں 16 اگست کو فضائی حملے کیے گئے جن میں کم از کم 112 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تعداد شہریوں کی تھی۔

تنظیم نے کہا ہے کہ اس مقام کے قریب ترین اڈا یا لڑاکا محاذ کم از کم دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

’ہیومن رائٹس واچ‘ کے معاون سربراہ برائے مشرق وسطیٰ، ندیم حوری کے بقول، دن دہاڑے، دکانداری اور خریداری میں مصروف مارکیٹ میں بم حملہ کرنا شہریوں کی جان کے تحفظ نہ کرنے کی بدترین مثال ہے۔

بقول اُن کے، ’قتل عام کا یہ تازہ ترین واقع اس انتباہ کا غماز ہے کہ سلامتی کونسل کو اپنی پچھلی قراردادوں پر فوری اقدام کرتے ہوئے اِن اندھا دھند حملوں کو روکنا چاہیئے‘۔

عینی شاہدین نے کہا ہے کہ اِن سرکاری بم حملوں میں دوما کی معروف مارکیٹوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جہاں حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے لڑاکوں نے ملک کی خانہ جنگی کے دوران شام کی فوج روزانہ کی بنیاد پر گولیاں چلاتی رہی ہے، جس صورت حال کو یہ پانچواں سال ہو چلا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ادارے کے سربراہ، اسٹیفن اوبرائن نے، جنھوں نے اس ہفتے کے اوائل میں شام کا تین روزہ دورہ کیا، بم حملوں کو ’ظالمانہ‘ اور ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔

عالمی ادارے کے سیاسی سربراہ، جیفری فیلٹمن نے اس واقع کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔

شام نے اِن حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، ماسوائے اقوام متحدہ کے اہل کاروں پر تنقید کے، جنھوں نے اس واقع کی مذمت کی ہے۔

XS
SM
MD
LG