رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کے آلات تلف: مبصر مشن


آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) کے عہدیداروں نے جمعرات کو بتایا کہ شام نے تمام مصدقہ تنصیبات پر موجود کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کے آلات کو تلف کر دیا ہے۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی مبصر مشن نے کہا ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیار بنانے کے آلات تلف کر دیے ہیں۔

مشن کے مطابق شام کو یہ کام یکم نومبر سے پہلے مکمل کرنا تھا اور اُس نے مہلت ختم ہونے سے قبل ہی یہ کر دیا۔

آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) کے عہدیداروں نے جمعرات کو بتایا کہ شام نے تمام مصدقہ تنصیبات پر موجود کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کے آلات کو ناقابل استعمال بنا دیا ہے۔

شام کی حکومت کو ایک معاہدے کے مطابق اپنے کیمیائی ہتھیار آئندہ سال کے وسط تک تلف کرنے ہیں۔

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ رواں سال اگست میں اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب دارالحکومت دمشق میں حکومت کی جانب سے ایک مبینہ کیمیائی حملے میں بچوں سمیت 1,400 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بعد امریکہ نے شام کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا تھا لیکن بعد میں روس کی مداخلت سے ایک معاہدے کے تحت شام نے اتفاق کیا تھا کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیار تلف کر دے گا۔

اُدھر جمعرات کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے اپنی رپورٹ میں شام کے پڑوسی ممالک خاص طور پر اردن سے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ مہاجرین کو آزادی کے ساتھ اپنے ملکوں میں داخل ہونے کی اجازت دیں اور اُنھیں زبردستی شام واپس نا بھیجیں۔

دریں اثنا اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی مندوب لخدار براہمیی شام کا اپنا دورہ جاری رکھے ہوئے ہیں جہاں وہ جمعرات اور جمعہ کو حزب اختلاف اور خواتین کے نمائندہ گروپوں سے ملاقات کریں گے۔

بدھ کو شام کے صدر بشار الاسد نے لخدار براہمیی سے ملاقات کے بعد متنبہ کیا تھا کہ مجوزہ امن کانفرنس صرف اُسی صورت کامیاب ہو سکتی ہے جب کہ دوسرے ممالک باغی گروپوں کی حمایت ترک کر دیں۔

براہیمی کی آئندہ ہفتے جنیوا میں امریکہ اور روس کے عہدیداروں سے ملاقاتیں طے ہیں جس میں شام کے مسئلے کے حل کے لیے مجوزہ امن کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

امریکہ اور روس اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یہ مذاکرات نومبر میں ہو جائیں۔ شام میں حزب مخالف کے گروہوں نے مجوزہ بات چیت کے اس عمل میں شرکت کی حامی تاحال نہیں بھری ہے اور اُن کا یہ موقف رہا ہے کہ صرف اُسی عمل کا حصہ بنیں گے جو بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنے کے لیے کیا جائے۔

شام میں مارچ 2011ء سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ لاکھوں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر اندرون ملک یا پڑوسی ممالک میں منتقل ہو چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG