رسائی کے لنکس

logo-print

شام، 31 دسمبر تک کیمیاوی ہتھیار تلف کرنا بظاہر ممکن نہیں: اقوام ِمتحدہ رپورٹ


اقوام ِ متحدہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ’موجودہ حالات میں 31 دسمبر تک کیمیاوی ہتھیاروں کی منتقلی مشکل دکھائی دیتی ہے‘۔

اقوام ِ متحدہ کے مطابق شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کی منگل تک ملک سے باہر منتقلی بظاہر مشکل دکھائی دیتی ہے۔

اقوام ِ متحدہ اور کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی سے متعلق ایک عالمی ادارے OPCW کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق شام سے کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے میں دیر کی وجوہات میں ناکافی سیکورٹی اور خراب موسم جیسے عوامل شامل ہیں۔

اقوام ِ متحدہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ’موجودہ حالات میں 31 دسمبر تک کیمیاوی ہتھیاروں کی منتقلی مشکل دکھائی دیتی ہے‘۔

دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی جانب سے اتوار کے روز شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق شام نے ابھی تک مہلک ہتھیار بندرگاہ پر منتقل کرنے کے کام کا آغاز نہیں کیا۔

شامی حکومت نے اقوام ِ متحدہ اور کیمیاوی ہتھیاروں پر پابندی سے متعلق ایک عالمی تنظیم کو شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کو سمندر میں تلف کرنے کے لیے رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

15 نومبر کو کیمیاوی ہتھیاروں کی تلفی سے متعلق تنظیم OPCW نے ایک پلان بنایا تھا کہ کس طرح شام کے مہلک ترین کیمیاوی ہتھیاروں کو 31 دسمبر تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس پلان کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ شام 2014ء کے وسط تک اپنے تمام کیمیاوی ہتھیاروں کو تلف کردے۔

شام کے کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کے ابتدائی پلان کے مطابق شام اپنے مہلک کیمیاوی ہتھیار لاتاکیا کی بندرگاہ تک پہنچائے گا۔ ناروے اور ڈنمارک کے کارگو بحری بیڑے ان کیمیاوی ہتھیاروں کو اٹلی پہنچائیں گے جہاں سے یہ ہتھیار امریکہ کے بحری بیٹرے Cape Ray میں منتقل کیے جائیں گے جس میں کیمیاوی ہتھیاروں کا اثر زائل کرنے کا سامان موجود ہے۔ اس کے بعد شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کی تلفی سمندر میں کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG