رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے بحران پر ہلری کلنٹن اور کوفی عنان کے درمیان بات چیت


امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے جمعے کو اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے سفارت کار کوفی عنان سے شام کی صورت حال پر بات چیت کی ہے جنہوں نے گذشتہ روز خبردار کیا تھا کہ اگر صورت حال میں تبدیلی نہ آئی تو شام خانہ جنگی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

واشنگٹن کی اس ملاقات سے ایک روز قبل اقوام متحدہ نے کہاتھا کہ شام میں اس کے غیر مسلح نگرانوں پر فائرنگ کی گئی اور انہیں وسطی صوبے حما میں تحقیقات سے روکا گیا جہاں تازہ اطلاعات کے مطابق بڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیاتھا۔

سرگرم کارکنوں کا کہناہے کہ مزارت ا لقبیر نامی قصبے میں قتل عام کے اس واقعہ میں کم ازکم 78 افراد ہلاک کردیے گئے تھے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔

کوفی عنان نے ، جن کے اپریل میں پیش کیے جانے والے امن منصوبے پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا جاسکا ، جمعرات کو خبردار کرتے ہوئے کہاتھا کہ بڑے پیمانے پر قتل کے واقعات شام کی روزمرہ زندگی کی ایک حقیقت بن چکے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی منقسم سلامتی کونسل اور بین الاقوامی کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ اکھٹے ہوں اور بالخصوص شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے فوری طورپر آگے بڑھیں۔

جمعرات کو ترکی کے دارالحکومت استنبول میں اپنے دورے کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہاتھا کہ شام کے لیڈر نے اپنی بربربیت میں دگنا اضافہ کردیا ہے اور وہ وقت آن پہنچاہے کہ ایک ایسے شام کے بارے میں سوچا جائے جن میں مسٹر اسد کا وجود نہ ہو۔

حزب اختلاف کے کارکنوں نے بدھ کے روز حما میں قتل عام کا الزام حکومت نواز فورسز پر الزام لگایا ہے۔ تصدیق کی صورت میں یہ گذشتہ دوہفتوں کے دروان عام شہریوں کے گلے کاٹنے کا ایسا چوتھا بڑا واقعہ ہوگا۔

شام کی حکومت ان واقعات کا الزام مسلح دہشت گردوں پر لگاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG