رسائی کے لنکس

شام کی ’اندھی سرنگ‘، لخدار کا بات چیت پر زور


لخدار براہیمی
لخدار براہیمی

دوسری طرف، معاذ الخطاب کی ’سیریئن نیشنل کولیشن‘ نے شام کے دیگر نمائندوں سے بات چیت کی پیش کش کی ہے، جن کا مسٹر اسد کی جانب سے باغیوں پر کی جانے والی پُر تشدد کارروائی سے کسی طور کوئی تعلق نہ ہو

امن کے بین الاقوامی ایلچی، لخدار براہیمی نے حکومت شام اور مخالفین پر زور دیا ہے کہ دو سال سے جاری صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت کا کوئی سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کےسائے تلے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

اتوار کے روز قاہرہ میں خطاب کرتے ہوئے، براہیمی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے زیر سایہ شامی اپوزیشن اور ایک ’قابل قبول‘ حکومتی وفد کےدرمیان، اُن کے بقول، شام کی ’اندھی سرنگ ‘ سے نکلنے پر بات چیت کا آغاز ہو سکتا ہے۔

اُنھوں نے اِس طرح کے مذاکرات کے مقام کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

شام کی جلاوطن اپوزیشن کے راہنما، معاذ الخطاب نے کہا ہے کہ وہ اِس بات کے خواہاں ہیں کہ شام کے رسمی نائب صدر فاروق الشرع سے ملا جائے، تاکہ اسد حکومت کی پُر امن سبک دوشی پر بات چیت کی جاسکے۔

معاذ الخطاب کی ’سیریئن نیشنل کولیشن‘ نے حکومت کے دیگر نمائندوں سے بات چیت کی پیش کش بھی کی، جن کا مسٹر اسد کی جانب سے باغیوں پر کی جانے والی پُر تشدد کارروائی سے کسی طور کوئی تعلق نہ ہو۔

براہیمی نے کہا کہ اپوزیشن کی پیش کش شامی حکومت کی طرف سےقومی مکالمے کے آغاز کے عہد سے متصادم ہے۔ مسٹر اسد نے گذشتہ ماہ اِس طرح کے مکالمے کا مطالبہ کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کس سے بات کریں گے۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ جان کیری اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اس بات کی اہمیت اجاگر کی ہے کہ شام کے سیاسی عمل کو کارآمد بنانے کی حمایت کے سلسلے میں وہ تنازع میں ملوث فریقین پر اپنا اپنا اثر و رسوخ کیسے استعمال کرسکتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کیری اور لاروف نے یہ بات چیت اتوار کو ہونے والی نصف گھنٹے کی گفتگو کے دوران کی۔

محکمہ ٴخارجہ نے کہا کہ کیری نے خون خرابے کا خاتمہ لانے، ملک کے اداروں کو مزید تنزلی سے بچانے، شام کے تمام باشندوں کے تحفظ کو یقینی بنانے، انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور مزید فرقہ وارانہ فسادات سے بچاؤ میں مدد دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکہ شام کی اپوزیشن کے اِس مطالبے کا حامی ہے کہ مسٹر اسد اقتدار چھوڑ دیں، اور اُن کی فوج کی طرف سے کی جانے والی مبینہ زیادتیوں پر اُن کا احتساب کیا جائے۔

ماسکو نے، جو کہ طویل عرصے سےمسٹر اسد کا اتحادی رہا ہے اور جسے وہ روسی ہتھیار فروخت کرتا ہے، اِن مغربی مطالبوں کو بار بار رد کرتا رہا ہے، جن میں مسٹر اسد کو اقتدار سے الگ کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG