رسائی کے لنکس

logo-print

'امریکہ اور ترکی کی افواج شام سے نکل جائیں'


شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم۔

شام نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ترکی کی افواج شام سے فوری طور پر نکل جائیں ورنہ شام کی حکومت کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ مناسب کارروائی کرے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا کہ شام میں حکومت کی اجازت کے بغیر جو بھی غیر ملکی فوج موجود ہے اسے ہم قابض فوج سمجھتے ہیں. لہذٰا انہیں فوری طور پر شام سے نکلنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ فوجیں نہ نکلیں تو عالمی قوانین کے تحت شام کو کارروائی کا حق ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال شام سے فوج کے انخلا کی منظوری دے دی تھی۔ بعدازاں دولت اسلامیہ(داعش) کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک ہزار امریکی فوج کو شام میں تعینات رکھا گیا تھا۔

امریکہ نے سابق صدر بارک اوباما کے دور صدارت کے دوران 2014 میں شام میں فضائی بمباری کے ذریعے جنگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ شام نے امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے کسی دوسرے ملک میں کارروائی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ تاہم امریکہ کا موقف رہا ہے کہ امریکی سالمیت کو خطرہ بننے والے کسی بھی گروہ کے خاتمے کے لیے امریکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔

امریکہ اور ترکی کی فوج نے گزشتہ دنوں شمالی شام میں مشترکہ گشت کیا تھا۔
امریکہ اور ترکی کی فوج نے گزشتہ دنوں شمالی شام میں مشترکہ گشت کیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکہ کی ایک ہزار فوج شام میں دولت اسلامیہ(داعش) کے خلاف سرگرم ہے۔ جب کہ ترکی کی فوجی شمالی شام میں وائی پی جے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے موجود ہے۔

ترکی وائی پی جے ملیشیا کو اپنی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ ترک حکام کا یہ موقف رہا ہے وائی پی جے کے جنگجو ترکی میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں لہذٰا ان کا قلع قمع ضروری ہے۔ ترکی شمالی شام میں امریکہ کے ساتھ مل کر ایک سیف زون بنانا چاہتا ہے۔ ترکی 10 لاکھ شامی مہاجرین کو اس سیف زون میں آباد کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ شام میں جنگ شروع ہونے کے بعد لگ بھگ 35 لاکھ شامی مہاجرین ترکی میں موجود ہیں۔

شام کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ترکی کی شام میں موجودگی غیر قانونی ہے اور نہ ہی انہیں شام میں کوئی سیف زون بنانے کا حق حاصل ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی منافی ہے۔

یاد رہے کہ شام کا بحران مارچ 2011 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب حکومت مخالفین مظاہرین دمشق، حلب اور دیگر بڑے شہروں میں جمع ہو گئے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ شام میں جمہوری اصلاحات نافذ کی جائیں۔

شام میں آٹھ سال سے جاری خانہ جنگی کے باعث لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
شام میں آٹھ سال سے جاری خانہ جنگی کے باعث لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شامی حکومت نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا اور اس دوران شام میں جنگجو گروہ بھی متحرک ہوئے اور یوں خانہ جنگی کا آغاز ہوا۔

مبصرین کے مطابق شام میں خانہ جنگی کے باعث اب تک لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جب کہ لاکھوں شامی شہری دیگر ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG