رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے معاملے پر اختلافات کے باوجود مشترکہ کوششیں جاری


روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف

روس کے وزیرخارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ مسٹر فابیوس اور ان کے درمیان مذاکرات کا مقصد شام میں امن کا قیام ہے لیکن ان کے بقول یہ کیسے ممکن ہو گا اس پر ان کے خیالات مختلف ہیں۔

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذمہ داران کا تعین کرنے میں روس اور مغربی قوتیں تاحال اختلافات کا شکار ہیں لیکن وہ اس ملک کے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کی اقوام متحدہ کی قرار داد پر مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

منگل کو روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ گزشتہ ماہ دمشق کے قریب ہونے والا حملہ باغیوں کی طرف سے ’’اشتعال انگیزی‘‘ تھا، تاکہ وہ بیرونی فوجی مدد حاصل کر سکیں۔

ماسکو میں لاوروف سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں ان کے فرانسیسی ہم منصب لوران فابیوس نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ سے اس بارے میں کوئی شبہ باقی نہیں کہ کیمیائی ہتھیار شامی فورسز نے ہی استعمال کیے۔

روس کے وزیرخارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ مسٹر فابیوس اور ان کے درمیان مذاکرات کا مقصد شام میں امن کا قیام ہے لیکن ان کے بقول یہ کیسے ممکن ہو گا اس پر ان کے خیالات مختلف ہیں۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس چاہتے ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کی معاملے پر اگر شام عمل پیرا نہیں ہوتا تو اس کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی کو بھی اقوام متحدہ کے اقدامات میں شامل کیا جائے، روس اس کی مخالفت کرتا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ ایک ایسی قرارداد چاہتے ہیں جس میں شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں سے دستبرداری کے لیے ڈیڈ لائن دی جائے۔
XS
SM
MD
LG