رسائی کے لنکس

logo-print

عراقی باغیوں کے مقابلے میں شام و ایران پیش پیش


شام کی فضائیہ نے منگل کے دِن شام عراق سرحد کے قریب، اپنی سرزمین پر شدت پسندوں پر حملے کیے۔ ادھر، ایران، عراق کو ٹنوں کے حساب سے فوجی آلات فراہم کر رہا ہے، جب کہ اُس کے ڈرون طیارے عراق کی مدد کر رہے ہیں

شام اور ایران شدت پسند سنی باغیوں کی پیش قدمی روکنے کی لڑائی میں شامل ہوگئے ہیں، جو عراق کو فتح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جمعرات کے روز عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے بتایا کہ شام کےجنگی طیاروں نے اِس ہفتے عراقی شام سرحد پر شام کی حدود کے اندر شدت پسندوں کو نشانہ بنایا، جسے وہ عراق کے وسیع تر شمالی اور مغربی علاقوں پر قابض ہونے کے لیے، راہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

مالکی کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے منگل کو شام کی طرف سے ہونے والے اِن حملوں کا خیرمقد م کیا ہے، لیکن اُنھوں نے اس کا تقاضا نہیں کیا تھا۔

دیگر اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ شامی فضائی حملہ عراقی فضائی حدود میں کیا گیا۔

دریں اثنا، ایران بھی عراق کی شیعہ قیادت والی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔ وہ ٹنوں کے حساب سے فوجی آلات فراہم کر رہا ہے، اور ساتھ ہی اُس کے ڈرون طیارے عراقی فضا کی نگرانی کے لیے بغداد کے ایک ہوائی اڈے سے اڑان بھرتے ہیں۔

دولة الاسلامیہ فی العراق ولشام (داعش) سے وابستہ شدت پسندوں کے خلاف شام اور ایران کی لڑائی کے باعث، امریکہ کے مفادات کے لیے ایک غیرمعمولی صورت حال پیدا ہو گئی ہے، جو صدر بشار الاسد کی حکومت کا سخت مخالف ہے جب کہ وہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پرگرام کے بارے میں متنازعہ فی بات چیت کر رہا ہے۔

صدر براک اوباما نے عراقی اہل کاروں کی مدد کے لیے 300کے قریب فوجی مشیر عراق روانہ کیے ہیں۔ عراق پر نگرانی کی غرض سے، اِس وقت امریکہ روزانہ 30 سے 35 ڈرون طیارے اڑا رہا ہے۔

حالیہ دِنوں کے دوران، شدت پسندوں کی بغداد کی طرف پیش قدمی تھم سی گئی ہے، جب کہ عراقی فوج نے اطلاع دی ہے کہ اُس نے بدھ کے دِن بیجی کے مقام پر ملک کی سب سے بڑی تیل کی رفائنری کا دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

اعلیٰ مغربی سفارت کار عراق کے بحران پر دھیان مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور وہ شدت پسندوں کی تعداد میں اضافے کا زور توڑنے کے لیے، ملک کے اتحاد پر زور دے رہے ہیں۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ، ولیم ہیگ بغداد پہنچے ہیں، جہاں اُنھوں نے مسٹر مالکی سے ملاقات کی اور وہ عراق کے خود مختار کرد علاقے کے صدر، مسعود بارزانی سے بات چیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہیگ نے کہا ہے کہ عراق کے وجود کو خطرہ لاحق ہے اور یہ کہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اتحاد سب سے اہم عنصر کا درجہ رکھتا ہے۔

پیرس میں، فرانس کے وزیر خارجہ، لورے فیبس نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے بات چیت کی ہے۔ فیبس نے کہا کہ عراق کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے، تاہم، وہ امید رکھتے ہیں کہ عراقی متحد ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG