رسائی کے لنکس

logo-print

’دمشق کے مضافات، انسانی ہمدردی کے کام کی اجازت مل سکتی ہے‘


سرگئی لاوروف نے پیر کے روز کہا ہے کہ حکومت ِ شام کو توقع ہے کہ ’مشرقی غوطا‘ اور ’یَرموک‘ کے ساتھ ساتھ حلب کے ’بزعا‘ کے مضافات میں پھنسے ہوئے شہریوں تک رسائی کے لیے اپوزیشن کے ساتھ سمجھوتا طے پا سکتا ہے

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ حکومتِ شام دمشق کے زیرِ محاصرہ مضافات میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امدادی کام کی اجازت دے سکتی ہے۔

لاوروف نے پیر کے روز کہا کہ حکومت ِ شام کو توقع ہے کہ ’مشرقی غوطا‘ اور ’یَرموک‘ کے ساتھ ساتھ حلب کے ’بزعا‘ کے مضافات میں پھنسے ہوئے شہریوں تک رسائی کے لیے اپوزیشن کے ساتھ سمجھوتا ہوسکتا ہے۔

شام کے کچھ حصوں کو ایک سال کے دوران، باہر سے کسی قسم کی کوئی مدد فراہم نہیں کی جا سکی۔

لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پیر کے روز پیرس میں ملاقات کی، جِس میں 22 جنوری کو جنیوا میں شام سے متعلق امن بات چیت کی تیاری پر گفتگو ہوئی۔

کیری نے کہا کہ لاوروف اور اُنھوں نے کچھ معاملوں پر غور کیا، جِن کے بارے میں، بقول اُن کے، جنیوا میں کامیابی کے لیے ماحول سازگار بنانا شامل تھا۔ اِن میں حلب میں ممکنہ جنگ بندی اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔

تاہم، دونوں نے ابھی اِس بات کا فیصلہ نہیں کیا آیا بات چیت میں ایران کو مدعو کیا جائے۔

بین الاقوامی مذاکرات کار، لخدار براہیمی نے کہا ہے کہ ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے، جسے وہاں موجود ہونا چاہیئے۔

روس بھی چاہتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کو موجود ہونا چاہیئے۔

لیکن، امریکہ نے کہا ہے ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ شام میں ایک عبوری حکومت کی حمایت کرے، جِس سے ممکنہ طور پر صدر بشار الاسد کو باہر رکھا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG