رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا شام کے خلاف ’محدود‘ کارروائی پر غور


صدر اوباما نے کہا ہے کہ اُنھوں نے شام کے مبینہ کیمیائی حملے پر کسی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ وہ ’محدود، مختصر‘ کارروائی کے بارے میں غور کر رہے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اُنھوں نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے پر کسی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ وہ ’محدود، مختصر‘ کارروائی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

صدر نے یہ بیان جمعہ کو دیا، جس سے کچھ ہی دیر قبل وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس برادری کو اُس رپورٹ پر ’مکمل یقین‘ ہے جِس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے زہریلی گیس کے حملوں میں شامی حکومت ملوث تھی۔

کیری کا کہنا تھا کہ جمعہ کو ’ڈی کلاسی فائی‘ ہونے والی رپورٹ میں یہ ثبوت ملتا ہے کہ دمشق کے قریب ہونے والے اس حملے میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں کم از کم 426 بچے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ رپورٹ میں درج نتائج سے پتا چلتا ہے کہ اِن حملوں سے تین روز قبل شام کی کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق ٹیم علاقے میں موجود تھی۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ راکیٹ اُن علاقوں سے داغے گئے جہاں حکومت کا کنٹرول ہے اور وہ علاقے ہدف بنے جو مخالفین کے کنٹرول میں ہیں یا پھر وہ مضافات جہاں لڑائی جاری ہے۔

کیری کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں وہ اطلاعات شامل ہیں، جن میں شام کے ایک اعلیٰ اہلکار خود اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ زہریلی گیس کا حملہ تھا۔

جمعہ کو بریفنگ میں، اوباما انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے کہا کہ صدر فوج اور اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے مختلف ’آپشنز‘ کے بارے میں اطلاعات حاصل کر رہے ہیں۔

عہدیدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر کانگریس اور کئی ایک بین الاقوامی ساجھے داروں سے مشاورت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کیری نے اِس بات کا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ صدر براک اوباما کب فیصلہ کریں گے۔
XS
SM
MD
LG