رسائی کے لنکس

logo-print

اعزاز یافتہ امریکی صحافی کا شام میں انتقال


اعزاز یافتہ امریکی صحافی کا شام میں انتقال

اخبار کے مطابق 43 سالہ صحافی انتھیونی شادید شام سے واپسی کی تیاری میں مصروف تھے جب جمعرات کو ان پر دمے کا شدید حملہ ہوا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے

امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کے پولٹزر پرائز جیتنے والے غیر ملکی نامہ نگار انتھونی شادید پیشہ وارانہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے شام میں انتقال کرگئے ہیں۔

اخبار کے مطابق 43 سالہ صحافی شام سے واپسی کی تیاری میں مصروف تھے جب جمعرات کو ان پر دمے کا شدید حملہ ہوا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے۔

شادید صدر بشار الاسد کی حامی سیکیورٹی فورسز اور حزبِ اختلاف کے مظاہرین کے مابین چپقلش کی رپورٹنگ کے لیے گزشتہ ایک ہفتے سے شام میں موجود تھے۔ ان کی میت شام سے ترکی پہنچادی گئی ہے۔

لبنانی نژاد امریکی شہری شادید کو عربی زبان پر مکمل عبور حاصل تھا اور وہ گزشتہ دو دہائیوں سے ایسوسی ایٹڈ پریس، دی بوسٹن گلوب، دی واشنگٹن پوسٹ اور ٹائمز جیسے معتبر امریکی اطلاعاتی اداروں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات کی رپورٹنگ کرتے رہے تھے۔

انہیں 2004ء اور 2010ء میں 'واشنگٹن پوسٹ' کے لیے عراق پر امریکی حملے اور اس پر قبضے کی رپورٹنگ کرنے پر دو بار صحافت کا اعلیٰ ترین اعزاز 'پولٹزر پرائز'دیا گیا تھا۔

مشرقِ وسطیٰ کے معاملات پر رپورٹنگ کرتے ہوئےشادید کو کئی بار اپنی زندگی خطرے میں ڈالنا پڑی۔ سنہ 2002 میں مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی رپورٹنگ کرتے ہوئے وہ کندھے پر گولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے جب کہ گزشتہ برس لیبیا میں جاری حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی رپورٹنگ کے دوران میں معمر قذافی کی حامی افواج نے انہیں 'نیویارک ٹائمز' کے دو دیگر نامہ نگاروں کے ہمراہ حراست میں لے لیا تھا۔

پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے خطروں سے کھیلنے کی ان کی یہ عادت آخر وقت تک برقرار رہی اور 'نیو یارک ٹائمز' کے مطابق غیر ملکی صحافیوں پر شامی حکومت کی کڑی پابندیوں کے باعث شادید اسمگلروں کی مدد سے شام میں داخل ہوئے تھے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے آنجہانی صحافی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG