رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں احتجاجی مظاہروں سے قبل شہروں میں فوج تعینات


شام میں احتجاجی مظاہروں سے قبل شہروں میں فوج تعینات

شام میں جمعہ کو متوقع احتجاجی مظاہروں سے قبل ٹیکنوں سے لیس فوجی دستے ملک کے کئی بڑے شہروں میں داخل ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے یہ پیش قدمی ساحلی علاقوں میں کی ہے جن میں وسطی شہر حمص اور حما کے مضافات شامل ہیں۔

شام میں مظاہرین کے خلاف فوج کی کارروائی اور بڑی تعداد میں گرفتاریوں کے باوجود جمعہ کو حکومت مخالف اجتمعات کی تیاریاں کی گئی ہیں۔

موجود صدر بشار الاسد کے والد حافظ الاسد نے 1982ء میں سنی بغاوت کو کچلنے کے لیے حما پر بمباری کا حکم دیا تھا۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کے مطابق اس اقدام کی وجہ سے کم از کم 10 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس وقت جاری حکومت مخالف تحریک میں لگ بھگ آٹھ سو افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ ہزاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

شام کی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے بیشتر نمائندوں پر ملک میں داخلے پر پابندی کے باعث غیر جانب دار ذرائع سے حالیہ اعداد و شمار کی تصدیق ناممکن ہے۔

دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے شام کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ غیر قانونی گرفتاریوں اور تشدد میں ملوث ہے۔

XS
SM
MD
LG