رسائی کے لنکس

logo-print

جنیوا امن مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہیں، شامی وزیرِ خارجہ


شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا کہ شام ’’جنیوا میں بیرونی مداخلت کے بغیر شامی فریقین کے درمیان مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہے۔‘‘

شام کے وزیر خارجہ وليد المعلم نے جمعرات کو بیجنگ کے دورے کے دوران کہا ہے کہ شام جنیوا میں امن مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہے اور امید کرتا ہے کہ یہ مذاکرات ایک قومی اتحادی حکومت کے قیام میں مدد دیں گے۔

گزشتہ جمعے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایک قراردار منظور کی تھی جس میں شام میں امن کے عمل کی توثیق کی گئی تھی۔ شام میں جاری خانہ جنگی سے اب تک کم از کم ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اقوام متحدہ جنوری کے آخر تک جنیوا میں امن مذاکرات منعقد کرنا چاہتی ہے۔

ولید المعلم نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کو بتایا کہ شام ’’جنیوا میں بیرونی مداخلت کے بغیر شامی فریقین کے درمیان مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہے۔‘‘

’’جیسے ہی ہمیں حزب اختلاف کے وفد کے شرکا کی فہرست موصول ہو گی ہمارا وفد مذاکرات کے لیے تیار ہو گا۔‘‘

انہوں نے چینی وزیر خارجہ کے ہمراہ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم امید کرتے ہیں کہ مذاکرات ہمیں قومی اتحادی حکومت قائم کرنے میں مدد کریں گے۔‘‘

’’یہ حکومت ایک آئینی کمیٹی پر مشتمل ہو گی جو ایک نئے آئین اور انتخابات کے نئے قانون پر کام کرے گی تاکہ اٹھارہ ماہ کے اندر اندر پارلیمانی انتخابات منقعد کرائے جا سکیں۔‘‘

جمعے کو منظور ہونے والی قرار دار اس سے قبل ویانا میں طے پانے والے منصوبے کی توثیق کرتی ہے جس میں جنگ بندی اور شامی حکومت اور حزب مخالف کے درمیان مذکرات کا مطالبہ کیا گیا تھا اور نئی حکومت کے قیام اور انتخابات کے لیے لگ بھگ دو سال کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔

مگر جنگ کے خاتمے میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں کیونکہ فریقین میں سے کوئی بھی حتمی فوجی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اقوام متحدہ میں اتفاق رائے کے باوجود بڑی طاقتیں صدر بشار الاسد کے مستقبل کے کردار اور حزب اختلاف گروپوں کے بارے میں منقسم ہیں۔

چینی وزیر خارجہ نے شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندوں کو چین آنے کی دعوت دی تھی کیونکہ ان کا ملک شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔

وانگ نے اس بات کا براہ راست جواب نہیں دیا کہ چین کا صدر بشار الاسد کے اقتدار میں رہنے کے بارے میں کیا خیال ہے۔

’’چین اس پر بہت واضح ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ شام کے مستقبل، اس کے قومی نظام اور قیادت کا فیصلہ شامی کو کرنا چاہیئے۔‘‘

’’شام کے مسئلے پر چین کا کردار وہاں امن اور مذاکرات کا فروغ ہے۔ چین ایک پرامن، مستحکم اور ترقی کی راہ پر گامزن مشرق وسطیٰ دیکھنا چاہتا ہے۔‘‘

چین نے اس سے قبل بھی شامی حکومت اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کی میزبانی کی ہے اگرچہ وہ اس بحران میں کوئی بڑا سفارتی کرادار نہیں ادا کر رہا۔

XS
SM
MD
LG