رسائی کے لنکس

logo-print

شام: حلب میں باغیوں نے القاعدہ کے اڈے پر قبضہ کر لیا


حلب کے شمالی شہر میں باغیوں نے ایک اسپتال کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جسے اُن کے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے حریف اڈے کے طور پر استعمال کرتے تھے

شام کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ حلب کے شمالی شہر میں باغیوں نے ایک اسپتال کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جسے اُن کے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے حریف اڈے کے طور پر استعمال کرتے تھے، ایسے میں جب صدر بشار الاسد کے مخالف دھڑوں کے درمیان لڑائی کو چھڑے آج چھٹا دِن ہے۔

’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے کہا ہے کہ معتدل افراد پر مشتمل اِس ڈھیلے ڈھالے اتحاد اور اسلام پرست باغی گروہ نے بدھ کے دِن اِس اڈے کا قبضہ حاصل کر لیا ہے، جِس سے قبل، عراق کی اسلامی ریاست اور بھگوڑوں (آئی ایس آئی ایل) پر مشتمل دھڑے کے خلاف حملوں کا ایک سلسلہ جاری رہا ہے۔

اِس جہاد پرست گروپ کےحلب کے ہیڈکوارٹرز پر مخالف جنگجوؤں نے قبضہ جما لیا ہے، جِن کے لیے کہا جاتا ہے کہ اُنھوں نے وہاں قید درجنوں قیدیوں کو رہا کردیا ہے۔

ایک جنگجو نے اپنےفاتحانہ انداز میں اِس واقع کی روداد سناتے ہوئے کہا: ’آج، آٹھ جنوری کو، الحمد لی اللہ، ہم نے اِس عمارت کو عراق کی اسلامی ریاست سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں سے چھڑا لیا ہے۔ اِس کے اندر، ہمیں تقریباً 70ہلاک شدہ قیدیوں لی لاشیں بھی ملی ہیں، جن میں صحافی شامل ہیں، جن کا تعلق ’ایف ایس اے‘ (فری سیریئم آرمی) کے بریگیڈز اور ڈویژنز سے تھا۔ اور، یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ اِن کا اسلام کے دور دور تک کا کوئی تعلق۔‘

یہ خبریں ایسے میں سامنے آئی ہیں جب’ آئی ایس آئی ایل‘ ترجمان نے، جِنھیں ابو محمد العدنانی کے نام سے جانا جاتا ہے، منگل کی رات گئے ایک گستاخانہ پیغام جاری کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں سے کہا کہ وہ مخالف باغیوں کا صفایا کردیں۔

عدنانی نے ’آئی ایس آئی ایل‘ کو بھی انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُسی نےملک کے سرگرم شام مخالف قومی اتحاد اور مغربی حمایت سے لڑنے والی فری سیریئن آرمی کے خلاف لڑائی چھیڑنے کا اعلان کیا اور اُس کا آغاز کیا۔

اِس سے قبل، شام میں القاعدہ سے اعلانیہ تعلق رکھنے والے گروہ، ’النُصرہ محاذ‘ نے باغی دھڑوں کے ساتھ امن پر زور دیتے ہوئے، کہا کہ آپس کی جنگ سے صرف مسٹر اسد کی حکومت کو ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔

’النُصرہ اتحاد‘ میں زیادہ تر شامی لوگ شامل ہیں، جب کہ ’آئی ایس آئی ایل‘ غیر ملکی جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔

آبزرویٹری نے کہا کہ شام کے باغی دھڑوں کے درمیان جمعے سے جاری جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 385 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 56 شہری زخمی ہوئے۔
XS
SM
MD
LG