رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں حزب مخالف کا اہم رہنما فضائی حملے میں ہلاک


حکومت اور شامی باغیوں کے مطابق، جیش الاسلام‘ نامی گروپ کے بانی زہران علوش دمشق کے مضافات میں اُس وقت مارے گئے جب اُن کے گروہ کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

شام میں باغیوں کے ایک طاقتور گروہ کے سربراہ دمشق کے مشرق میں ایک فضائی کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔

حکومت اور شامی باغیوں کے مطابق، جیش الاسلام‘ نامی گروپ کے بانی زہران علوش دمشق کے مضافات میں اُس وقت مارے گئے جب اُن کے گروہ کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

زہران کی موت صدر بشار الاسد کے خلاف برسرپیکار شام کی مسلح حزب اختلاف کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے خاص طور پر ایسے وقت جب 2016ء کے اوائل میں شام کے بارے میں امن مذاکرات ہونے ہیں۔

فضائی کارروائی میں اس گروپ کے کئی دیگر سینیئر اراکین بھی ہلاک ہو گئے۔

یہ ہلاکتیں ایسے وقت ہوئیں جب چند روز قبل ہی اقوام متحدہ نے ایک قرار داد منظور کی جس میں شام کے مسئلے کے حل کے لیے امن عمل کی حمایت کی گئی۔

امن مذاکرات کے اس عمل میں ’جیش الاسلام‘ نے بھی شرکت کرنی تھی۔

بعض غیر مصدقہ ابتدائی اطلاعات میں یہ کہا گیا تھا کہ زہران کی ہلاکت کا باعث بننے والا حملہ مبینہ طور پر روسی لڑاکا طیاروں سے کیا گیا۔

زہران 40 کے پیٹے میں تھے اور بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب سے اسلامی قوانین کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انھیں شام میں حکومت کے خلاف بغاوت میں شامل ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں معافی کے معاہدے کے تحت 2011ء میں رہا کر دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG