رسائی کے لنکس

logo-print

امن کاروں کی مکمل تعیناتی تک شام میں تشدد جاری رہنے کا خطرہ


شام کی حکومت نے وسطی شہر حما میں ایک بڑے دھماکے کاالزام دہشت گردوں پر لگایا ہے جس میں کم ازکم 16 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جب کہ حزب اختلاف نے حکومت کو اس واقعہ کا ذمے دار ٹہرایا ہے ۔ حکومت اور باغیوں کے درمیان طے پانے والے فائربندی کے کمزور معاہدے کے باوجود تشدد کی کارروائیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

ایک عام شہری کی بنائی گئی ویڈیو میں دکھا گیا ہے کہ حما میں درجنوں لوگ ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے کے نیچے دب جانے والے افراد کو تلاش کررہے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ بدھ کو ہونے والے اس دھماکہ میں کتنے افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس بارے میں متضاد خبریں دی جارہی ہیں۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ دھماکہ ایک ایسی عمارت میں ہوا جو دہشت گردوں اور دھماکہ خیز بم بنانے والے مسلح گروپوں کے استعمال میں تھی۔

لیکن حکومت مخالف سرگرم کارکن اس سانحہ کا الزام سیکیورٹی فورسز پر لگاتے ہیں ، اور ان کا کہناہے یہ واقعہ بدھ کے روز ملک بھر میں ہونے والےتشدد کے واقعات کا حصہ ہے جن میں کم ازکم 27 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عینی شاہدوں کا کہناہے کہ جمعرات کو بڑی تعداد میں شام کی افواج کے ٹینک دمشق کے مضافاتی علاقے دوما کے گرد بدستور گھیرا ڈالے ہوئے تھے اور کسی کسی وقت شہر پر گولے داغ رہے تھے۔ دوما کے کئی قریبی علاقے بھی حملے کی زد میں آئے۔

اقوام متحدہ کے مبصروں نے تشدد ختم کرانے کے مقصد سے دوما کا دورہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی مبصر ٹیم کے ترجمان نیراج سنگھ نے دمشق میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ تقریباً ایک درجن افراد پر مشتمل اقوام متحدہ کی ٹیم جن علاقوں کے دورے پر جارہی ہے وہاں امن قائم کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔

نیراج سنگھ کا کہناتھا کہ اس عمل میں ان کی ٹیم کا کردار تناؤ کی صورت حال میں کمی لانا ہے۔ ہم یہی کررہے ہیں ۔ یہی کچھ کل ہم نے کئی گھنٹوں تک دوما میں اپنی موجودگی قائم رکھتے ہوئے علاقے کے گشت کے ذریعے کیا تھا۔

لبنان میں اقوام متحدہ کے امن کاروں کے ایک سابق ترجمان تیمور گاکسیل کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ اقوام متحدہ کے مبصر مشن کا سٹاف نامکمل ہے، شام کی حکومت اپنی سخت گیری جاری رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے شام کے لیے 300 ارکان پر مشتمل ٹیم کی منظوری دی ہے جب کہ اس وقت حکومت اور باغیوں کے درمیان فائربندی کے کمزور معاہدے کی نگرانی کے لیے وہاں تقریباً ایک درجن امن کار موجود ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ جب تک آپ کے پاس وہاں کافی لوگ موجود نہیں ہوگے تو اس وقت تک شام کی حکومت اس کا فائدہ اٹھاتی رہے گی اور اقوام متحدہ کے امن کاروں کی تعداد پوری ہونے سے پہلے وہی کچھ کرے گی جو وہ کرنا چاہے گی۔ شام کی حکومت کو کارروائیوں سے متعلق حاصل آزادی پر اس وقت ہی قابو پایا جاسکے گا جب اقوام متحدہ کے تعینات کردہ سارے امن کار وہاں پہنچ جائیں کے ۔ تو اس وقت شام کی حکومت اقوام متحدہ کے امن کاروں کی مکمل آمد سے قبل اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

شام کی حکومت کا کہناہے کہ فائر بندی کے باوجود وہ بقول اس کے مسلح دہشت گردوں کے خلاف دفاع کا اپنا حق محفوظ رکھتی ہے ۔

شام کا یہ بھی کہناہے کہ وہ ان ملکوں کے مبصروں کو آنے کی اجازت نہیں دے گاجنہیں وہ اپنا مخالف تصور کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG