رسائی کے لنکس

logo-print

شام: کشیدگی میں اضافہ، حلب پر بمباری


سرکاری میڈیا کے مطابق درعا اور اس کے اردگرد کے علاقے میں فوج کی باغیوں کے ساتھ جھڑپیں جاری رہیں، جب کہ سرکاری فوج نے حلب پر بمباری کی ہے

شامی فوجی دستوں اور باغیوں کے درمیان منگل کو دمشق شہر کی حدود سے باہر اور حلب کے شہر کے قریب شدید جھڑپیں ہوئیں۔

حکومتی فوجی طیاروں نے دارالحکومت کے مشرقی مضافات اور باغیوں کے زیر ِ تسلط شہر اور ملک کے معاشی مرکز حلب پر بمباری کی۔

سرکاری حکام نے باغیوں کے حملوں کی وجہ سے حلب ہوائی اڈے کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ میں قائم تنظیم ’سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائیٹس‘ کے مطابق، ائیرپورٹ کی حفاظت پر مامور شامی دستوں کے فوجی اڈے بریگیڈ 80 کے قریب باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔

حکومت مخالف سرگرم کارکنوں کے مطابق دمشق کے مضافاتی علاقے درعا میں بھی شدید لڑائی ہونے اور شامی جنگی طیاروں کی بمباری کی اطلاعات ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق فوج نے درعا اور اس کے اردگرد کے علاقے میں، اُس کے بقول، ’سینکڑوں دہشت گردوں‘ کو مار دیا ہے۔

شامی باغی صدر بشار الاسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت مخالف سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس مارچ میں حکومت مخالف احتجاج شروع میں پُر امن نوعیت کا تھا، تاہم تنازعے میں اب تک کم و بیش پینتالیس ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔

شام کے وزیر ِ اعظم وایل الحلاقی نے پیر کے روز کہا تھا کہ حکومت اس تنازعے کے حل کے لیے بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ وہ اقوام ِ متحدہ کے عرب خطے کے ایلچی لخدار براہیمی کے اس بیان کا جواب دے رہے تھے جس میں براہیمی نے کہا تھا کہ ان کے پاس شام کی صورتحال کا ایک ایسا مجوزہ حل ہے جو عالمی طاقتوں کو منظور ہے۔

براہیمی کے مطابق اس مجوزہ حل میں تمام فریقوں کو ایک دوسرے کی مخالفت بند کرکے ایک قومی مکالے میں حصہ لینے کی دعوت دی جائے گی، جس کے بعد ایک ایسی عبوری حکومت تشکیل دی جا سکے گی جو ملک میں نئے انتخابات کا انعقاد ممکن بنائے گی۔ لیکن اس مجوزہ حل میں صدر اسد کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔
XS
SM
MD
LG