رسائی کے لنکس

logo-print

شام نے حلب پر قبضے کے لیے دباؤ بڑھا دیا


یکم اکتوبر کی بمباری کے بعد اسپتال کا خالی کمرہ

شام کے سرکاری میڈیا کی خبروں میں کہا گیا ہے کہ فوج نے باغیوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ شہر کے مشرقی حصے کو خالی کردیں تو وہ انہیں وہاں سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دے سکتے ہیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حلب میں باغیوں کے کنٹرول میں باقی رہ جانے والے سب سے بڑے اسپتال پر حالیہ دنوں میں ہفتے کے روز اس وقت بمباری کی گئی جب شام کی حکومت کی فوج نے اپنے روسی اتحادیوں کی مدد سے پورے شہر کا دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے چڑھائی کی۔

انسانی ہمدردی اور ہنگامی امور میں تعاون سے متعلق اقوام متحدہ کے معاون سیکرٹری جنرل سٹیفن او برائین نے اتوار کے روز کہا کہ مشرقی حلب میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے ایک بارپھر یہ اپیل کی کہ ایسے مریضوں کو شہر سے باہر نکالنے کے لیے، جن کی حالت بہت خراب ہے، عارضی طورپر لڑائی روک دی جائے۔ ان کا کہناتھا کہ اسپتال کا نظام تباہی کےدہانے پرپہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر یہ اپیل کرتا ہوں کہ کم از کم 48 گھنٹوں کے لیے خون خرابہ روک دیا جائے۔

حلب پر قبضے کے لیے ایک مہینے سے جاری یہ لڑائیاں، گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کا سب سے زیادہ مہلک اور پرتشدد ثابت ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے عہدے داروں کا اندازہ ہے کہ ان لڑائیوں میں اب تک چار لاکھ کے لگ بھگ افراد ہلاک اوربڑی تعداد میں بے بھر ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے انسانی ہمدردی کے امور سے متعلق ترجمان رک برینن نے جمعے کے روز گفتگو کرتے ہوئے حلب کی صورتحال کو در حقیقت نا گفتہ بہ قرار دیا ۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون اسپتال پر بمباری کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئےان کی مذمت کرچکے ہیں جب کہ امریکہ روس پر بحران کے کسی سفارتی حل پر زوردے چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG