رسائی کے لنکس

logo-print

شام: کرد زیر کنٹرول علاقوں میں کرد زبان کی ترویج کی کوششیں


شامی کردوں کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ملنے والی نئی آزادی کے سبب انہیں  اپنی مادری زبان کو ترقی دینے کا موقع ملا ہے جس پر صدر بشار الاسد اور ان کے مرحوم والد کے دور میں کئی دہائیوں تک پابندی عائد تھی۔

شام کی خانہ جنگی اور داعش کے ابھرنے کی وجہ سے شامی کردوں کو جنگ اور شورش زدہ ملک کے شمال اور شمال مشرقی علاقوں کو کنٹرول کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس کی وجہ سے کردوں کو اپنی اس نسلی ثقافت پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہوئی جس پر کسی دور میں پابندی عائد تھی۔

شامی کردوں کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ملنے والی نئی آزادی کے سبب انہیں اپنی مادری زبان کو ترقی دینے کا موقع ملا ہے جس پر صدر بشار الاسد اور ان کے مرحوم والد کے دور میں کئی دہائیوں تک پابندی عائد تھی۔

ان علاقوں میں شامی فورسز کی موجودگی نا ہونے کے برابر ہے اور اس وجہ سے مقامی کرد گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ آزادی سے اپنی زبان سیکھ سکتے ہیں اور اسے نئی نسل کو بھی سکھا سکتے ہیں۔

امود کے قصبے میں نجی تنظیم کے ذریعے کرد زبان کی تعلیم دینے والے اسمعٰیل عمر نے کہا کہ "یہ ایک بہت اہم پیش رفت ہے جو اس وقت ہو رہی ہے"۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "ہم 31 طلباء کو (کرد زبان کی) تعلیم دے چکے ہیں ۔۔۔۔ ہم شامی انقلاب شروع ہونے کے بعد یہ (کام) کر رہے ہیں"۔

2011 میں شامی خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے کرد علاقوں میں پورا تعلیمی نظام صرف عربی زبان میں تھا۔ تاہم شامی کردوں نےاپنے گھروں میں اپنی زبان کے استعمال کو محفوظ تو رکھا لیکن انہیں اسکولوں میں اس کی تعلیم حاصل کرنے کا کوئی موقع میسر نہیں تھا۔

قامشلی کے قصبے کی مقامی انتظامیہ کے تعلیم کے کمیشن کی سربراہ سمیرا حاجی علی نے کہا کہ کردوں کے لیے ایسا وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی زبان کو عملی طور پر استعمال کر سکیں اور اسے اپنے بچوں کو منتقل کر سکیں۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "کئی دہائیوں تک بعث پارٹی کی طرف سے ہماری زبان پر پابندی عائد تھی لیکن اب ہمارے بچے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں"۔

سمیرا نے کہا کہ نئی (کرد مقامی) انتظامیہ کے تحت عربی اور سريانية زبان کے ساتھ کرد سرکاری زبان قرار دی گئی ہے۔

مقامی خود مختار انتظامیہ نے نیا نصاب تیار کیا ہے جو نا صرف کرد زبان میں ہے بلکہ یہاں ایسی نصابی کتابیں بھی پڑھائی جاتی ہیں جو ان کتابوں سے مختلف ہیں جو شام کے سرکاری اسکولوں میں اس سے پہلے پڑھائی جاتی تھیں۔

قامشلی شہر کے ایک مقامی سرکاری اسکول میں کام کرنے والے ایک استاد عبدالسلام محمد نے کہا کہ "آئندہ تعلیمی سال میں ہمارے پاس ابتدائی جماعتوں کے لیے تیار کی گئی ںصابی کتابیں ہوں گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ریاضی اور سائنس کی تمام کتابیں کرد زبان میں ہوں گی"۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اساتذہ کو اس بات کی تربیت فراہم کی جارہی کہ وہ (طلباء کو ) کرد زبان میں تعلیم دیں سکیں۔

کردوں کے زیر کنٹرول علاقے کے کئی مکینوں نے نئے تعلیمی نظام پر تنقید کی ہے ان کا کہنا ہے کہ کرد زبان کی تعلیم دینا اور اسے بچوں کو منتقل کرنا اچھی بات ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں نیا نصاب رائج کرتے وقت اس حقیقت کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے کہ فی الحال طلباء ساری تعلیم کرد زبان میں حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

نسرین مالا جو تین بچوں کی ماں ہیں اور ان کے بچے چرچ کے تحت چلنے والے ایک مقامی نجی اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، کا کہنا تھا کہ "ہم اپنے بچوں کو کرد زبان میں تعلیم دینے کے خلاف نہیں ہیں کرد زبان ہماری مادری زبان ہے اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں تاہم فوری طور پر بچوں کی لیے (تمام مضامین) کرد زبان میں پڑھانے سے نقصان ہو سکتا ہے"۔

نجی اسکولوں میں ذریعہ تعلیم اب بھی عربی میں ہے لیکن تمام والدین وہاں اپنے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے۔ نجی اسکولوں کی فیسیں زیادہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے مکینوں کے لیے بچوں کو ان سرکاری اسکولوں میں بھیجنے کے سوا کو ئی راستہ نہیں جہاں کرد زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔

زبان کے ماہرین نے بھی اس قسم کے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ طلباء پر (کرد) زبان مسلط کرنے سے ان کے سیکھنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

ایک اسکول کے معلم عمر نے کہا کہ، یہ ایک بتدریجی عمل ہونا چاہیے جس میں بچوں کو کرد زبان سے آہستہ آہستہ روشناس کروایا جائے "۔

" آپ انہیں اس زبان میں تعلیم نہیں دے سکتے جس میں انہوں نے پہلے تعلیم حاصل نا کی ہو اور پھر (اس کے بعد) ان سے یہ توقع کی جائے کہ وہ تعلیمی (میدان) میں کامیاب ہوں گے"۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ بچوں کے لیے ایک دوسری مشکل کرد اور عربی حروف تہجی کا مختلف ہونا ہے۔

ہند یورپی زبانوں کے خاندان سے تعلق کی بنا پر کرد زبان میں لاطینی حروف تہجی استعمال ہوتے ہیں لیکن طلباء عربی حروف تہجی سے مانوس ہیں جو دائیں سے بائیں طرف لکھے جاتے ہیں۔

عمر نے کہا کہ "شاید یہ ایک چھوٹی بات ہو۔۔۔۔ تاہم اس حوالے سے یہ ایک پریشان کن بات ہے کہ طلباء کو ہر ایک چیز (مضمون) کو لاطینی رسم الخط میں تبدیل کرنا ہو گا"۔

انہوں نے کہا کہ نئے رسم الخط سے مانوس ہونے کے لیے طلباء کو ایک طویل عرصہ درکار ہو گا۔

ان تکنیکی مشکلات کے باوجود مقامی کرد گروپوں کا کہنا ہے کہ جسیے جیسے انہیں (اپنے علاقوں میں) زیادہ اختیار حاصل ہو گا وہ اپنی زبان کو زندگی کے مختلف شعبوں میں اختیار کرنے کے حوالے سے پرعزم ہیں۔

XS
SM
MD
LG