رسائی کے لنکس

logo-print

خاتون کیمرہ پرسن کی ٹھوکر نے شامی پناہ گزین کی قسمت بدل دی


ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ کے ایک مضافاتی علاقے گتافی میں قائم ہسپانوی اسپورٹس آرگنائزیشن نے سابقہ فٹ بال کوچ اسامہ عبدالمحسن کو ملازمت اور رہائش کے ساتھ ایک نئی زندگی کی پیشکش کی ہے۔

ایک شامی تارکین وطن جسے تقریباً ایک ہفتے پہلے ہنگری میں ایک صحافی نے دانستہ طور پر ٹھوکر مار کر زمین پرگرا دیا تھا، اسپین میں ایک نئی زندگی کا آغاز کر رہا ہے۔

ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ کے ایک مضافاتی علاقے گتافی میں قائم ہسپانوی اسپورٹس آرگنائزیشن نے سابقہ فٹ بال کوچ اسامہ عبدالمحسن کو ملازمت اور رہائش کے ساتھ ایک نئی زندگی کی پیشکش کی ہے۔

نا دانستہ طور پر فلمائی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عبدالمحسن اپنے آٹھ سالہ بیٹے زید کو گود میں اٹھا کر سربیا اور ہنگری کی سرحد عبور کرنے کی کوشش میں بھاگتے ہیں، جب کہ پولیس ان کے تعاقب میں نظر آتی ہے، اس صورت حال میں ہنگری کے ایک نجی ٹی وی چینل کی خاتون کیمرہ پرسن پیٹرا لزلو نے انھیں بھاگتا دیکھ کر ٹانگ مار کر زمین پر گرا دیتی ہے۔

یہ واقعہ آٹھ ستمبر کا ہے جس کی ویڈیو نے بین الاقوامی سطح پر غم غصے کو جنم دیا تھا ۔

خاتون صحافی پیٹرا لزلو ہنگری کے ’این آئی‘ ٹی وی پر کام کرتی تھی، اسے چینل کی طرف سے اس واقعے کے بعد فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ اسے فوجداری الزامات اور ممکنہ جیل کا سامنا ہے۔

اسپینش فٹ بال اکیڈمی سینیف کے صدر میگیل گالا نے بتایا کہ محسن شام میں ایک فٹ بال ٹیم ال فتوی کے کوچ تھے، اور جیسے ہی ہمیں اس بات کا علم ہوا ہم نے انھیں تربیتی اسکول میں ملازمت کی پیشکش کر دی ۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملازمت شروع کرنے سے پہلے محسن کو کوچنگ بیج کا امتحان پاس کرنا ہو گا اور تھوڑی بہت ہسپانوی زبان سیکھنے ہو گی۔

روزنامہ ہنگرین میں شائع ہونے والے ایک خط میں لزلو نے لکھا کہ یہ میری غلط فہمی تھی کیونکہ میں سمجھی تھیں کہ تارکین وطن مجھ پر حملہ کر سکتے ہیں۔

انھوں نے واقعہ پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ماں ہیں اور یہ ان کی بد قسمتی ہے کہ انھوں ایک بچے کو دھکا دیا ۔

فٹ بال اکیڈمی کے صدر میگیل گالا نے ہسپانوی میڈیا سے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے انسانیت کے ناطے محسن اور اس کے خاندان کی مدد کرنی چاہی تھی تاہم محسن نے ہمارے فٹ بال کے تربیتی کیمپ میں دلچسپی ظاہر کی اور بعد میں دوسری چیزیں بھی ہوتی چلی گئیں۔

انھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے وہ محسن اور ان کے خاندان کی سیاسی پناہ کی درخواست ڈالیں گے اور انھیں گستافی میں آباد کریں گے، جہاں وہ محسن کےخاندان کا تمام خرچہ برداشت کریں گے جب تک وہ خود سے اس کے قابل نہیں ہو جاتے ہیں ۔

مسٹر میگیل گالا نے بتایا کہ اس واقعے کی ویڈیو نے انھیں خاصا رنجیدہ کر دیا تھا جس کے بعد ہم نے اپنے کیمپ کے ایک عربی بولنے والے فٹ بالر محمد لبروز کو میونح محسن کی تلاش میں روانہ کیا، جہاں ہزاروں تارکین وطن پہنچ چکے ہیں اور آخر کار ہم نے محسن کو ڈھونڈ نکالا۔

اور اس کے بعد چند گھنٹوں کے اندر اندر محسن پیرس کی فلائٹ میں تھے جہاں سے وہ طویل ٹرین کا سفر کر کے بدھ کی رات میڈرڈ پہنچے ہیں، جہاں ان کے استقبال کے لیے ہسپانوی عوام اور میڈرڈ کے میئر بھی موجود تھے ۔

محسن نے اس موقع پر اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے وہاں موجود ہسپانوی میڈیا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انھیں امید ہے کہ ان کا خاندان اسپین میں ایک نئی زندگی شروع کرے گا اور جلد ہی ان کی دوبیٹیاں اور اہلیہ بھی اسپین میں ان کے پاس آجائیں گی۔

XS
SM
MD
LG