رسائی کے لنکس

logo-print

شام: احمد تومح دوبارہ حزبِ اختلاف کے سربراہ منتخب


احمد تومح کل ڈالے جانے والے 65 ووٹوں میں سے 63 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

شام کی جلاوطن حزبِ اختلاف کے اتحاد نے احمد تومح کو ایک بار پھر اپنا سربراہ منتخب کرلیا جسے تجزیہ کار حزبِ اختلاف پر قطر اور اخوان المسلمون کے اثر و رسوخ کا اظہار قرار دے رہے ہیں۔

شام کی متوازی حکومت تصور کیے جانے والے حزبِ اختلاف کے اتحاد میں شامل کئی رہنماؤں نے احمد تومح کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا جس کے باعث انہیں رواں سال جولائی میں اپناعہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

تاہم بدھ کو ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے اجلاس میں اتحاد کے رہنماؤں نے کثرتِ رائے سے دوبارہ احمد تومح کو اپنا سربراہ منتخب کرلیا جو مغربی ملکوں کی حمایت یافتہ شامی حزبِ اختلاف کی عبوری حکومت کی قیادت کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق اتحاد کے 109 ارکان میں سے 40 سے زائد نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ سعودی عرب کے حمایتِ یافتہ شام کی عبوری حکومت کے صدر ہادی البحرا نے بھی ووٹ ڈالنے سے گریز کیا۔

مغربی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ ووٹنگ میں حصہ نہ لینے والے بیشتر رہنماؤں کو اتحاد پر اخوان المسلمون کے بڑھتے ہوئے غلبے پر اعتراض تھا۔

احمد تومح کل ڈالے جانے والے 65 ووٹوں میں سے 63 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

شامی حزبِ اختلاف کے بعض رہنما اتحاد کا نیا سربراہ کسی ایسے شخص کو منتخب کرنا چاہ رہے تھے جو شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں مقیم ہو۔

اتحاد کے تقریباً تمام ہی رہنما خود ساختہ جلاوطنی پر مشرقِ وسطیٰ اور یورپی ملکوں میں مقیم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اتحاد کو شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کےخلاف لڑنے والے باغیوں پر موثر کنٹرول حاصل نہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اتحاد اور اس کے رہنماؤں پر مشتمل شام کی عبوری حکومت شامی عوام کی خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی میں ناکام رہی ہے اور اس کے فیصلے اس کے دو بڑے سرپرستوں – سعودی عرب اور قطر – کی مرضی کے تابع ہوکر رہ گئے ہیں جو دونوں ہی اتحاد پر اپنی گرفت میں اضافے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG