رسائی کے لنکس

logo-print

روس کی کارروائیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں: صدر اسد


اسد کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ روسی لڑاکا طیارے کو ترکی کی طرف سے مار گرائے جانے سے شام میں حکومت کے حق میں تبدیل ہوتی صورتحال پر انقرہ کا عدم اطمینان ظاہر ہوتا ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ شامی جنگ میں روس کی شمولیت سے لڑائی کا توازن تبدیل ہوا ہے اور ان کے بقول ان کا بین الاقوامی اتحادی ایسے ہی موثر رہے گا۔

دمشق میں جمہوریہ چیک کے ایک ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اسد کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ روسی لڑاکا طیارے کو ترکی کی طرف سے مار گرائے جانے سے شام میں حکومت کے حق میں تبدیل ہوتی صورتحال پر انقرہ کا عدم اطمینان ظاہر ہوتا ہے۔

یہ انٹرویو اتوار کو ریکارڈ کیا گیا اور منگل کو دیر گئے نشر ہوا۔

شامی صدر کا کہنا تھا کہ "میرا خیال ہے کہ اس (طیارہ مار گرائے جانے کے واقعے) نے ترک صدر کے حقیقی عزائم کو ظاہر کر دیا ہے۔ کیونکہ جس طرح روسی مداخلت سے یہاں (شام) میں صورتحال تبدیل ہوئی اس سے وہ (اردوان) اپنے اعصاب پر قابو نہیں رکھ سکے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ جاری ہے اور روس کی حمایت یا شمولیت مزید مضبوط ہوگی، "یہ پہلے ہی مستحکم ہے، اس سے پیچھے ہٹنے کی کوئی بات ہی نہیں۔"

خطے میں ترکی شام کا حریف ہے اور اس کا اصرار ہے کہ شام کے مسئلے کے دیر پا حل میں اسد کی اقتدار سے علیحدگی ضروری ہے جب کہ روسی طیارے کو مار گرائے جانے پر اس کا موقف یہ چلا آ رہا ہے کہ طیارے نے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

روس، شامی صدر اسد کا اہم بین الاقوامی اتحادی ہے جس نے دو ماہ قبل ہی مغربی شام میں عسکریت پسندوں پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔ اس کا مار گرایا جانے والا طیارہ بھی اسی علاقے میں ترکی کی سرحد کے قریب ہی تباہ ہوا تھا۔

صدر اسد کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند گروپ اگر ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو ان کے لیے عام معافی ہو گی لیکن یہ پیشکش داعش یا القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے لیے نہیں ہے۔

"جب وہ ہتھیار چھوڑ کر واپس اپنی معمول کی زندگی کی طرف آتے ہیں تو حکومت انھیں معاف کر دے گی۔"

انھوں نے باغیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " آپ پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی جائے گی، آپ اپنی معمول کی زندگی کی طرف جانے کے لیے آزاد ہیں۔۔‘‘

شام کی حکومت کے عہدیداروں نے منگل کو بتایا تھا کہ وہ حزب مخالف کے "مسلح افراد" کے اس ساتھ معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں کہ جس کے تحت انھیں اپنے زیر تسلط علاقے حمص کو چھوڑنا ہوگا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب پانچ سال سے جاری لڑائی کا تاحال کوئی قابل قبول حل تلاش نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس جنگ میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG