رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے صدر کی ماسکو میں روسی قیادت سے ملاقاتیں


گزشتہ چار سال سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے صدر کا پہلا باضابطہ غیر ملکی دورہ ہے۔ صدر بشار الاسد نے فوجی تعاون پر اپنے روسی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔

شام کے صدر بشار الاسد نے ماسکو میں روس کے صدر ولادیمر پوتن سے ملاقات کی ہے۔ گزشتہ چار سال سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے صدر کا پہلا باضابطہ غیر ملکی دورہ ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے شام میں "دہشت گردوں" کے خلاف فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

شام کی حکومت صدر کے مخالفین کے لیے "دہشت گرد" کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے متعلق کریملن کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان کے متن میں بتایا گیا کہ صدر بشار الاسد نے فوجی تعاون پر اپنے روسی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔

صدر پوتن کا کہنا تھا کہ روس، شام کے مسئلے کے سیاسی حل میں مدد کے لیے بھی تیار ہے اور وہ اس تنازع کے پرامن حل کی خواہاں دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

بیان کے مطابق شام کے صدر کا کہنا تھا کہ "میں روس کی تمام قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جو مدد وہ شام کو فراہم کر رہے ہیں۔ شام کی وحدت کے لیے کھڑے ہونے کا شکریہ۔"

روسی صدر نے اس موقع پر کہا کہ ان کے ملک کی طرف سے شام میں فوجی محاذ پر مثبت پیش رفت دیرپا سیاسی حل کی بنیاد فراہم کرے گی جس میں تمام سیاسی قوتیں، نسلی اور مذہبی گروپ بھی شامل ہوں گے۔

روس صدر بشارالاسد کا قریبی اتحادی ہے اور وہ 2011ء میں یہاں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے وقت سے ہی شامی صدر کی حمایت کرتا آ رہا ہے۔ اس دورہ سلامتی کونسل میں شام سے متعلق پیش کی گئی کئی سخت قراردادوں پر بھی اس نے اختلاف کیا۔

گزشتہ تین ہفتوں سے روس نے شام میں فضائی کارروائیاں بھی شروع کر رکھی ہیں جن پر امریکہ اور دیگر مغربی قوتیں یہ کہہ کر تنقید کر رہی ہیں کہ ماسکو ان کارروائیوں میں شدت پسند گروپ داعش سے زیادہ صدر اسد کے مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔

روس ان دعوؤں کو غلط قرار دیتا ہے۔

XS
SM
MD
LG