رسائی کے لنکس

اردن: شامی مہاجرین کو شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کی فراہمی


آئیکیا فاؤنڈیشن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے عہدیدار شمسی توانائی پلانٹ کا دورہ کر رہے ہیں۔

اردن کے دور دراز صحرا میں قائم کیمپوں میں مقیم شامی مہاجرین کو بدھ کو شمسی توانائی سے فراہمی شروع ہو گئی ہے اور یہ دنیا میں پہلا مہاجر کیمپ ہے جہاں قابل تجدید توانائی سے بجلی فراہم کی گئی ہے۔

پینتالیس لاکھ ڈالر کے لاگت سے یہ منصوبہ مکمل کیا گیا اور اس کے لیے فنڈ عالمی شہرت یافتہ فرنیچر کمپنی آئیکیا کی طرف سے قائم کی گئی ایک تنظیم نے فراہم کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں الزرق کیمپ میں مقیم 20 سے 35 ہزار افراد اس سے مستفید ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پنا ہ گزین کا کہنا ہے کہ کیمپ میں مقیم تمام افراد کو بجلی فراہم کرنے کے لیے پلانٹ کے پیداواری صلاحیت کو دوگنا کیا جائے گا جس کے لیے حتمی لاگت 97 لاکھ ڈالر آئے گی۔

شام میں 2011 کو شروع ہونے والی شورش جو بہت تیزی سے خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی، کی وجہ سے 50 لاکھ شامیوں کو اپنے گھر بار چھوڑے پڑے۔

اردن میں اس وقت تقریباً چھ لاکھ 60 ہزار شامی پناہ گزین مقیم ہیں۔

الزرق کا کیمپ اقوام متحدہ کی ادارہ برائے پناہ گزین کے زیر انتظام ہے اور اسے اپریل 2014 میں قائم کیا گیا تھا پہلے ڈھائی سالوں کے دوران یہاں کے مقیم افراد شمسی توانائی سے چلنے والی لالٹین استعمال کرتے تھے اور اس کی وجہ سے گرمیوں اور سردیوں میں انہیں نہایت مشکل صورت حال کا سامنا رہا۔

جنوری 2017ء میں 20 ہزار افراد کو بجلی کے گرڈ سے منسلک کیا گیا تھا جب کے باقی ماندہ کو متوقع طور پر رواں سال کے اواخر میں اس نظام سے جوڑ دیا جائےگا۔

شمسی توانائی سے چلنے والے پلانٹ نے بدھ کو کام شروع کیا اور اس کی وجہ سے ادارہ برائے پناہ گزین کو تقریباً 15 لاکھ ڈالر کی سالانہ بچت ہو گی جو کہ دیگر امدادی سرگرمیوں کے لیے خرچ کی جا سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG