رسائی کے لنکس

logo-print

پناہ کے متلاشی، وہ جن کے لیے زمین سے زیادہ سمندر محفوظ تھا!


پناہ گزینوں کو برطانیہ میں قبول کرنے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن شروع کی گئی ہے،اس درخواست پر ایلان کردی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جمعرات کی شب تک 322,814 لوگوں نے دستخط کئے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ۔

پناہ گزینوں کے بحران کےحوالے سے ذرائع ابلاغ میں اکثر یورپی حکومتوں کے ردعمل کا احاطہ کیا جاتا ہے اور انسانی المیے کی کہانیوں کو بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے، لیکن مردہ شامی بچے کی فکر انگیز تصاویر نے اس ہولناک حقیقت کا پردہ فاش کردیا ہے جو تنازعات اور جنگ زدہ علاقوں سے چھوٹے بچوں والےخاندانوں کو بھی ربڑ کی کشتیوں پر سفرکرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

ایسے میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ تارکین وطن کیوں اپنی جمع پونجی اسمگلروں کو تھما کر اپنے بچوں کو غیر محفوظ کشتیوں میں بیٹھا کرسمندر کے سپرد کردیتے ہیں؟ کیا وہ مغرب میں عیش وآرام کی زندگی کے متمنی ہیں جیسا کہ ان کے بارے میں ایک عام تاثر پایا جاتا ہے ؟

یا پھر یہ حقیقی پناہ گزین ہیں جن کے لیے اپنے آبائی وطن کی سرزمین سے زیادہ بپھرتا سمندر محفوظ تھا۔

اس واقعے سے پہلے مقدونیائی سرحد پر تارکین وطن اور سیکیورٹی فورسز کا سامنا ہوا اورخطرناک مناظر دیکھے گئے۔ اس ہفتے مغرب کی جانب سفر کرنے والے سینکٹروں مہاجرین ہنگری میں بوڈا پسٹ کے ریلوے اسٹیشن پر محصور ہوگئے ہیں جنھیں پولیس کی طرف سے ٹرینوں میں سوار ہونےسے روکا گیا ہے جبکہ اس سے قبل آسٹریا میں 71 لاشیں ایک ٹرک میں سے دریافت ہوئی ہیں۔

یورپی یونین کی مقامی اور بین الاقوامی سرحدوں کی سلامتی کی محافظ تنظیم کے مطابق اگست کے مہینے میں 107,500 مہاجرین نے غیر قانونی طور پر یورپی یونین کی سرحدیں پار کرنے کی کوشش کی۔ ان میں اکثریت مبینہ طور پر افغانی اور شامی مہاجرین کی ہے جو بنیادی طور پر ترکی اور یونان کا رخ کرتے ہیں اور بہت سے پناہ گزین ان سرحدوں کو پار کرنے کی کوششوں کے دوران جان سے چلے جاتے ہیں۔

بحران زدہ ریاست شام متعدد تنازعات میں گھری ہے۔ اس ملک میں خانہ جنگی کا آغاز لگ بھگ چار برس پہلے حکومت اور اپوزیشن کے مابین اقتدار کی جنگ سے ہوا تھا۔

اس سال بحیرہ روم پار کرنے والے 2,000سے زائد پناہ گزینوں کی ہلاکتوں کے باوجود متعدد یورپی ممالک اور برطانیہ نے پناہ گزینوں کے مجوزہ کوٹے کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔

پناہ گزینوں کی حمایت میں تحریکیں اور آن لائن پٹیشن :

اخبار ہفنگٹن پوسٹ اس واقعہ کے حوالے سے لکھتا ہے یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے اثرات سے بچ نہیں سکتا ہے جہاں سے لاکھوں لوگ جن میں مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں، مغرب کی جانب پناہ کے لیے دیکھ رہے ہیں۔

پناہ گزینوں کو برطانیہ میں قبول کرنے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن شروع کی گئی ہے۔ اس درخواست پر بدھ کے روز تک 16 ہزار افراد نے دستخط کئے تھے لیکن ایلان کردی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جمعرات کی شب تک 322,814 لوگوں نے اس درخواست پر دستخط کئے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے ۔

اخباردی انڈیپینڈنٹ کے مطابق بچے کی المناک تصاویر شائع کرنےکا ہمارا فیصلہ آسان نہیں تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ 'لوگ مر رہے ہیں اور انھیں ہماری مدد کی ضرورت ہے'۔ بچے کی تصویر کے ساتھ اخبار نے لکھا ہے ''کیا اس مردہ شامی بچے کی پراثر تصاویر بھی پناہ گزینوں کے لیے یورپ کے رویے کو تبدیل نہیں کرسکتی ہے تو پھر کیا چیز اسے تبدیل کرے گی''۔

برطانوی اخبار نے جنگ زدہ علاقوں سے بھاگنے والے پناہ گزینوں کی برطانیہ میں منصفانہ تعداد کو قبول کرنے پر زور دیا ہے اور ایک آن لائن پٹیشن دائر کی ہے جس پر 20 ہزار سے زائد افراد نے دستخط کئے ہیں۔

​دوسری جانب دنیا بھر میں مہاجرین کی حمایت میں تحریکیں بھی زور پکڑتی جارہی ہیں پیر کے روز آسٹریا میں اکہتر مہاجرین کی ہائی وے پر ایک ٹرک میں موت کے بعد ویانا میں ہزاروں افراد کی طرف سے احتجاج کیا گیا۔

علاوہ ازیں پناہ گزینوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے لندن میں بھی سماجی تنظیموں کے کارکنوں کی جانب سے 12 ستمبر کو سینٹرل لندن میں وزیر اعظم کے گھر ٹین ڈاؤننگ تک ایک احتجاجی مظاہرہ رکھا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG