رسائی کے لنکس

logo-print

شام: ڈیڈلائن قریب، حکومت کی پُر تشدد کارروائیاں جاری


حزب مخالف سے تعلق رکھنے والی ’سیریئن نیشنل کونسل‘ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت کا خیال ہے کہ اپریل 10 کی حتمی تاریخ سے پہلے پہلےمخالف آواز کو کچل کر رکھ دیا جائے

ایسے میں جب منگل کی حتمی تاریخ قریب ہے، جس دِن تمام فوجی کارروائی بند کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، شامی فوج اب بھی حزب مخالف پر گولیاں برسا رہی ہے۔

ایک جلا وطن گروپ، انسانی حقوق سے متعلق سیرئین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز 100سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جس میں سےتقریباً تین چوتھائی کے قریب شہری ہیں۔ اِن میں سے کئی اموات اُس وقت واقع ہوئیں جب فوجی دستوں نے ہما کے وسطی علاقے میں لتمناہ کے قصبے پر حملہ کیا۔

حقوق ِ انسانی کے گروہوں اور عینی شاہدین نےمتعدد علاقوں میں حکومت کے حامی اورمخالفین کے حلقوں کے مابین بھاری توپ خانے سے فوجی شیلنگ اور جھڑپوں کی رپورٹ دی ہے۔

حزب مخالف سے تعلق رکھنے والی ’سیریئن نیشنل کونسل‘ کے ایک ترجمان، اسامہ مناجد کا کہنا ہے کہ حکومت کا خیال ہے کہ اپریل 10کی حتمی تاریخ سے پہلے پہلےمخالف آواز کو کچل کر رکھ دیا جائے۔

مناجد کے بقول، یہ بات بارہا دہرائی جا چکی ہے، اوریہ ہوہی نہیں سکتا کہ اِس سمجھوتےکا کوئی سودمند نتیجہ برآمد ہو۔ بات یہ ہے کہ حکومت کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ حتمی تاریخ کے قریب آتے ہی، پُر تشدد کارروائیاں تیز کی جائیں۔


شامی حکومت وعدہ کرچکی ہے کہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کےمشترک ایلچی کوفی عنان کے توسط سے طے پانے والے امن منصوبے کی شرائط کے تحت 10اپریل تک تمام فوجی کارروائی روک دی جائے گی۔ سمجھوتے کی رو سے حکومتی عہد کے ایفا کے 48گھنٹوں کے اندر اندر اپوزیشن سے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا گیا ہے۔

مناجد کا کہنا ہے کہ ’سیریئن نیشنل کونسل‘ امن منصوبے کی حمایت کرتی ہے ، لیکن اُسے شک ہے کہ صدر بشار الاسد سمجھوتے کی شقوں پر عمل درآمد کریں گے۔

اُن کے بقول، باوجود اِس بات کے کہ اپوزیشن منصوبے کی حمایت کرتی ہے، اور وہ ایسا ہی کرتی رہے گی، اُن کے بقول، ہم بہتر نتائج کی توقع نہیں رکھتے۔

XS
SM
MD
LG