رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کے جنجگؤوں کو 48 گھنٹوں میں منبج کا علاقہ چھوڑنے کا انتباہ


منبج میں تباہی کا ایک منظر

اقوام متحدہ نے بھی ان فضائی کارروائیوں کی مذمت کی ہے جس میں اس کے بقول 20 سے زائد بچے مارے جا چکے ہیں۔

شام میں امریکی کے حمایت یافتہ شامی حزب مخالف کے جنگجوؤں نے ’داعش‘ کے شدت پسندوں کو منبج کا علاقہ چھورٹے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔

شام کا شمالی علاقہ منبج شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

منبج کے علاقے کو گزشتہ ماہ گھیرے میں لے لیا گیا تھا اور تاہم فورسز آہستہ آہستہ پیش قدمی کر رہی ہیں۔

سیئرین ڈیموکریٹک فورسز ’ایس ڈی ایف‘ داعش کے خلاف امریکہ کی زیر قیادت فورسز سے منسلک ہیں۔

یہ تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب اتحادی فورسز کی کارروائی میں مبینہ طور پر درجنوں شہری ہلاکتوں پر علاقے میں کشیدگی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنان اور حزب مخالف کے رہنما مغربی ملکوں سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں کہ وہ اپنی فضائی کارروائیاں بند کریں

منگل کو شدت پسند گروپ داعش کے مضبوط گڑھ اور اس کے زیر قبضہ شہر منبج میں ہونے والی فضائی کارروائیوں میں کم ازکم 56 شہری ہلاک ہو گئے تھے جن میں بچے بھی شامل تھے۔

جمعرات کو کارکنان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو مظاہروں سے متعلق اپنا پیغام پھیلانے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا جس میں دنیا بھر میں بسنے والے شامیوں سے کہا گیا کہ وہ ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر آئیں۔

منبج کی خبروں سے متعلق ایک فیس بک پیج پر کہا گیا کہ "ہم تمام شامیوں سے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی فرقے سے ہو، اور دنیا کے دیگر لوگوں سے بھی خاص طور پر منبج کے لوگوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اتوار منبج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کھڑے ہوں۔"

منبج میں بدھ کو بھی مظاہرے ہوئے اور سوشل میڈیا پر اس احتجاج کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔

دریں اثنا شام میں حزب مخالف کے رہنما نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک منگل کو ہونے والی فضائی کاررائیوں کی تحقیقات نہیں ہو جاتیں فضائی کارروائیاں بند کی جائیں۔

باور کیا جاتا ہے کہ یہ فضائی کارروائی امریکی زیر قیادت اتحاد نے کی تھی۔

سیریئن نیشنل کوالیشن کے صدر انس العبدہ نے غیرملکی رہنماؤں کو لکھے گئے خط میں کہا کہ "یہ تحقیقات نہ صرف اس لیے ضروری ہیں کہ ان کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا بلکہ اس سے ذمہ داراں کے تعین بھی کیا جا سکے گا۔

اقوام متحدہ نے بھی ان فضائی کارروائیوں کی مذمت کی ہے جس میں اس کے بقول 20 سے زائد بچے مارے جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال "یونیسف" نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ شام میں تنازع کے تمام فریقین کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داری سے پاسداری کرنی چاہیے۔

امریکی زیر قیادت اتحاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فضائی کارروائیاں اس نے کی تھیں اور وہ اس میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG