رسائی کے لنکس

طاہر القادری کا جلسہ، سیاستدانوں کے لئے حیرانی کا باعث


قومی رہنماوٴں کے لئے طاہر القادری کی اچانک سیاسی میدان میں آکر حکومت کو ڈیڈلائن دینا حیرت کا باعث ہے

اتوار کا دن مبصرین کے نزدیک پاکستان کی سیاست کا حیرت انگیز دن تھا جب تحریک منہاج القرآن نامی تنظیم کے ایک نسبتاً غیر فعال ’سیاستدان‘ ڈاکٹر طاہر القادری نے مینارپاکستان لاہور کے زیرسایہ اتنا بڑا سیاسی جلسہ کیا کہ لوگوں کی اس جلسے میں شرکت اگلے روز تک ہر جگہ زیر بحث رہی۔

آزاد تجزیہ نگاروں کی رائے کے مطابق ’منہاج القرآن“ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کبھی بھی سیاسی جماعت کی حیثیت سے کوئی اہم رول ادا نہیں کرسکی ہے۔ اب اس کا یوں اچانک سامنے آنا حیرانگی کا باعث ہے۔

کراچی میں مقیم ایک سینئر صحافی اور جماعت اسلامی کے دیرینہ کارکن نسیم اختر نے وائس آف امریکہ سے تبادلہ خیال میں کہا کہ کراچی کا ایک عام اخبار بین سالوں سے ان کی خبریں سٹی پیج پرغیر نمایاں کوریج کے طور پر پڑھتا آیا ہے۔ اب اچانک ان کی وطن واپسی اور یوں اچانک اتنا بڑا سیاسی دنگل سجالینا، اس پر میڈیا کی جانب سے مسلسل کئی گھنٹوں تک لائیو کوریج بہت سے سوال کھڑے کر گئی ہے۔

دوسری جانب خود قومی رہنماوٴں کے لئے بھی طاہر القادری کی اچانک سیاسی میدان میں آکر کھلم کھلا حکومت کو ڈیڈلائن دینا حیرت کا باعث ہے۔ تقریباً تمام سیاست دان علامہ طاہر کی جلسے میں تقریر کو اپنے اپنے اپنے انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ مثلاً جے یو آئی کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ علامہ طاہرالقادری کا الیکشن سے پہلے اصلاحات کا بیان انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی ساز ش ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی نیوز‘ سے تبادلہ خیال میں کیا۔

علامہ طاہرالقادری کی حکومت کو نظام درست کرنے کیلئے تین ہفتوں کی مہلت دینے پربطور ردعمل کچھ قومی رہنماوٴں کا یہاں تک کہنا ہے کہ انتخابات ملتوی نہیں ہوناچاہیئں۔

پیپلزپارٹی کی رہنماشازیہ مری کا کہنا ہے کہ چالیس سال کے مسائل چارسال میں حل نہیں ہوسکتے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما پرویزرشید کاکہناہے کہ علامہ طاہرالقادری نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں تو ووٹنگ کاراستہ اختیارکریں۔ ’لشکرکشی کی باتیں مناسب نہیں‘۔

علامہ طاہرالقادری کی تقریرکے جواب میں پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹو نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کا نعرہ ’سیاست نہیں ریاست بچاوٴ‘ سمجھ سے بالاتر ہے۔ گورنرہاوٴس لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست کی نفی جمہوریت کی نفی ہے۔ جمہوریت پر فوج، عدلیہ، سول سوسائٹی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہیں۔

سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن نے کہاکہ مدرسہ چلانا اور ملک چلانا مختلف چیزیں ہیں۔ ان کاکہناتھا کہ الیکشن ملتوی کرانے کی کوئی بھی سازش قبول نہیں کرینگے۔ ملک مزید ایڈونچر برداشت نہیں کرسکتا۔

پاکستان مسلم لیگ ہم خیال کی رہنما کشمالہ طارق نے کہاہے کہ نادیدہ قوتیں الیکشن ملتوی کرانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں، سازش کو ناکام بنانے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔لاہور میں ورکرز کنونشن سے خطاب میں کشمالہ طارق کا کہنا تھا کہ طویل نگراں حکومت کے خواب دیکھنے والوں کے خوابوں کو چکنا چورکرنا ہو گا۔ ملک میں پانچ سال سے غیر یقینی کی صورتحال ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے طاہر القادری کے موقف کی حمایت کی ہے، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے جلسے سے ایک روز قبل ہی جلسے میں بھرپور شرکت کرنے اور ہر طرح کی حمایت کا یقین دلایا تھا۔ متحدہ کے سینئر رہنماوٴں کے ایک وفد نے جلسے میں شرکت بھی کی تھی۔
XS
SM
MD
LG