رسائی کے لنکس

logo-print

چین اور تائیوان کے درمیان پہلے باضابطہ مذاکرات رواں ہفتے میں


چند ماہرین یہ امکان بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ان مذاکرات سے رواں برس کے اختتام تک چین اور تائیوان کے صدور کے درمیان ملاقات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

تائیوان اور چین کے درمیان رواں ہفتے میں پہلے باضابطہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چین اور تائیوان کے درمیان چھ دہائیاں قبل ہونے والی خانہ جنگی کے بعد یہ پہلے اور تاریخی باضابطہ مذاکرات ہیں۔

دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان سیاسی اختلافات واضح ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی اس کوشش سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

چند ماہرین تو یہ توقع بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ان مذاکرات سے رواں برس کے اختتام تک چین اور تائیوان کے صدور کے درمیان ملاقات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

تائیوان میں 2008ء سے صدر ما ینک جیو کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تائیوان اور چین کے درمیان معاشی روابط مضبوط ہوئے ہیں۔

سٹی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ سے منسلک اور سیاسیات کے ماہر جوزف چینگ کہتے ہیں کہ، ’تائیوان کی حکومت کا امتحان یہ ہے کہ آیا وہ چین کے ساتھ ان مذاکرات کو صحیح طرح ڈیل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ تائیوان میں رواں برس کے اختتام میں انتخابات متوقع ہیں۔ اگر تائیوان چین کے ساتھ مثبت مذاکرات کرنے میں کامیاب رہا تو یہ تائیوان کے صدر کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی اور ان کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ کرے گی۔ دوسری طرف اگر وہ چین کے ساتھ ان مذاکرات میں ناکام رہے تو عین ممکن ہے کہ ان پر تنقید کی جائے جس کا اثر آنے والے انتخابات کے نتائج پر پڑ سکتا ہے‘۔

تائیوان اور چین کے درمیان 1940ء میں ہونے والی خانہ جنگی کے بعد حالات ہمیشہ سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ 40ء کے عشرے میں ہونے والی خانہ جنگی میں کمیونیسٹس نے نیشنلسٹس کو ہرا دیا تھا۔ نیشنلسٹس اس کے بعد تائیوان منتقل ہو گئے تھے جبکہ چین پر تب سے کمیونسٹ پارٹی کی حکمرانی رہی ہے۔

کئی دہائیوں تک چین نے تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیئے رکھا۔ 1996ء میں تائیوان میں پہلے جمہوری صدارتی انتخابات منعقد ہوئے۔

چینی صدر ژی جنگپنگ بھی تائیوان کے ساتھ تعلقات میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG