رسائی کے لنکس

logo-print

چین: تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں پر پابندی لگ سکتی ہے



چین نے اوباما انتظامیہ کی جانب سے تائیوان کو اسلحے کی فروخت کے فیصلے کے بعدخبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔

چینی حکومت نے منگل کے روز کہا کہ وہ تائیوان کو امریکہ کی جانب سے لگ بھگ ساڑھے چھ ارب ڈالر کے اسلحے کی اس فروخت پر ابھی تک برہم ہے ، جس کا اعلان واشنگٹن نے جمعے کے روز کیا تھا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ما زہاؤکسو نے خبردار کیا کہ اس فروخت سے چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر زد پڑےگی۔

ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے سلسلے میں چین کی سخت مخالفت کو نظر انداز کیا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ اس فروخت سے چین اور امریکہ کے درمیان بہت سے معاملات میں تبادلوں اور تعاون کی سرگرمیوں پر شدید منفی اثر پڑے گا اور اس کے نتیجے میں بقول ان کے ناخوشگوار نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بات بھی زور دے کرکہی کہ چین ، تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ترجمان نے کسی کمپنی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی یہ وضاحت کی کہ پابندیوں کس نوعیت کی ہوں گی۔ لیکن متاثر ہونے والی کچھ کمپنیوں میں لاک ہِیڈ مارٹن ریتیھان اور بوئنگ شامل ہوسکتی ہیں۔

چین تائیوان کو اپنا ایک منحرف صوبہ سمجھتا ہے اور وہ اس عزم کا اظہار کرچکاہے کہ اگرضروری ہوا تو وہ طاقت کے ذریعے جزیرے کو دوبارہ اپنے زیر انتظام لے آئے گا۔ امریکہ نے 1979ء میں تائپے کی بجائے بیجنگ کو سفارتی طورپر تسلیم کرلیا تھا لیکن وہ کہہ چکاہے کہ وہ جزیرے کو اپنے دفاع کے سلسلے میں مدد فراہم کرے گا۔

چین نے ہتھیاروں کی تازہ ترین فروخت پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ فوجی تبادلوں کے پروگرام معطل کردیے ہیں۔

چین اور امریکہ کے درمیان ایک اور فوجی مسئلے کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ چین امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والے چار سالہ جائزے سے مطمئن نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں اہم طویل المدت مقاصد اور امریکہ کے لیے ممکنہ فوجی خطرات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں چین میں فوج میں حالیہ اضافے کی تفصیلات دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ شفافیت کے فقدان کے باعث بیجنگ کے ارادوں کے بارے میں سوال پیدا ہوتے ہیں۔

ترجمان نے ان تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین کی فوج میں اضافہ ایک معمول کا عمل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی رپورٹ میں چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی گئی ہے اور اس سے رائے عامہ کو ایک غلط سمت ملے گی۔

چین امریکہ تعلقات کئی دوسرے معاملات کی وجہ سے بھی کشیدہ ہورہے ہیں، جن میں صدر اوباما اور تبت کے جلاوطن روحانی راہنما دلائی لامہ کے درمیان ایک ممکنہ ملاقات اور چین میں انٹرنیٹ کی سینسر شپ پر امریکی تشویش شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG