رسائی کے لنکس

logo-print

شدت پسندوں کے حملے میں 23 تاجک فوجی ہلاک


تاجکستان میں حکام نے بتایا ہے کہ شدت پسندوں نے ایک فوجی قافلے پر حملہ کر کے 23 فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔یہ حملہ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے سے اڑھائی سو کلومیٹر مشرق میں افغان سرحد سے ملحقہ راشت وادی میں کیا گیا۔

تاجک وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والی اس دہشت گردی کی کارروائی میں شامل حملہ آوروں کا تعلق پاکستان، افغانستان اور چیچنیا سے تھا ۔

ایک فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق تاجک صدر امام علی رحمانوف نے اپنی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔

تاجک فوجی اُن شدت پسندوں کو بھی تلاش کر رہے ہیں جو 23 اگست کو دوشنبے کی ایک جیل سے محافظوں کو ہلاک کرنے کے بعد فرار ہو گئے تھے۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں کے القاعدہ سے بھی رابطے ہیں۔

گذشتہ ہفتے تاجک حکام نے افغان سرحدکے قریب کم از کم بیس طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجو نیٹو کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاجکستان مسلم اکثریت والی ایک وسط ایشیائی ریاست ہے اور اس کی افغانستان کے ساتھ تقریباً تیرہ سو کلومیٹر طویل سرحد ہے۔

XS
SM
MD
LG