رسائی کے لنکس

logo-print

ایسے مقدمات تو مارشل لا دور میں بھی نہیں بنائے گئے، طلال چودھری


مسلم لیگ نون کے رہنما طلال چوہدری۔ فائل فوٹو

مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چودھری نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کو تاریخ کے سب سے زیادہ مقدمات کا سامنا ہے۔ اس طرح کے مقدمات کبھی مارشل لا میں بھی نہیں بنائے گئے۔ اب سیاسی مخالفین پر بھینس چوری کی جگہ نیب، ایف آئی اے اور منشیات کے مقدمے بنائے جاتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ فیس بک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری نے تسلیم کیا کہ نیب کے، بقول ان کے ’’کالے قوانین‘‘ کو ختم نہ کرنا مسلم لیگ ن حکومت کی ناکامی تھی۔

انھوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ مسلم لیگ کا اثاثہ ہیں اور پارٹی نے ان کا مکمل دفاع کیا۔ میڈیا نے ان کے بارے میں جو تحقیقی رپورٹنگ کی اور اس کیس کو اجاگر کیا، اس نے بڑا کردار ادا کیا۔ رانا ثنا اللہ کی ضمانت کو رکوانے کے لیے حکومت نے تاخیری حربے استعمال کیے۔ پندرہ دن میں مکمل چالان پیش کیا جانا تھا جو ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ضمانت اس لیے منظور ہوئی کہ مقدمہ جھوٹا تھا۔ جے آئى ٹی کی انکوائری سے پہلے جتنے الزامات لگائے گئے تھے اس میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا۔ اس سے پہلے جتنے بھی مقدمات ہوئے، حکومت ان کی دستاویزات فوراً سامنے لاتی رہی ہے لیکن رانا ثنا اللہ سے متعلق کوئی ویڈیو یا شواہد موجود نہیں تھے۔

وزیر مملکت شہریار آفریدی کے رانا ثنا اللہ سے متعلق وڈیو اور فوٹیج کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ ان دونوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ ایک ’’ف‘‘ سے شروع ہوتی ہے اور دوسری ’’و‘‘ سے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے مالم جبہ، پشاور میٹرو اور بلین ٹری جیسے منصوبوں میں کرپشن کی لیکن ان کی کوئی تحقیقات نہیں کی جا رہیں۔ پی ٹی آئى میں شامل ہو جانے والوں کے سارے گناہ دھل جاتے ہیں۔

سابق وزیر نے بتایا کہ میاں نواز شریف کے علاج کے لیے برطانوی ڈاکٹروں نے مزید وقت مانگا ہے کیونکہ ان کی صحت کو بہت خطرات ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG