رسائی کے لنکس

logo-print

افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے متوقع


افغانستان کی 'اعلیٰ امن کونسل' کے ایک سینئر رکن کے مطابق مذاکرات جولائی کے آخری ہفتے میں ممکنہ طور پر چین کے مغربی علاقے سنکیانگ کے شہر ارمچی میں ہوں گے۔

افغانستان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے چین میں ہو گا۔

اس سے قبل دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کو پہلا دور جولائی کے اوائل میں پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں ہوا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رویٹرز‘ نے افغانستان اعلیٰ امن کونسل کے ایک سینئر رکن اسماعیل قاسم یار کے حوالے سے بتایا ہے یہ مذاکرات ممکنہ طور پر چین کے مغربی علاقے سنکیانگ کے قصبے ارمچی میں ہوں گے۔

تاہم ابھی تک طالبان کی طرف سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں افغانستان حکومت سے برسر پیکار مسلح طالبان تحریک کے نمائندوں اور افغانستان کے سرکاری وفد کے درمیاں پاکستان کے صحت افزا مقام مری میں مزاکرات کا پہلا دور ہوا جس میں چین اور امریکہ کے نمائندوں نے بھی بطور مبصر شرکت کی تھی۔

ان مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں نے آئندہ ہفتوں میں دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔

افغانستان میں اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد طالبان کے ساتھ کئی غیر رسمی رابطے ہو چکے ہیں، تاہم افغانستان کے سرکاری وفد اور طالبان کے درمیان پہلی بار پاکستان کی میزبانی میں براہ راست رابطہ رواں ماہ کے اوائل میں مری میں ہوا۔

افغانستان میں گزشتہ 14 سال سے مسلح طالبان کی طرف سے مزاحمت جاری ہے۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان شروع ہونے والے مذاکراتی عمل کو افغانستان میں امن کے قیام کی کوشش کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے تاہم اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے بعض دھڑے مذاکرات کے معاملے پر منقسم ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی طالبان کے سربراہ ملا عمر نے اپنے ایک بیان میں طالبان کے افغان حکومت سے مذاکرات کے عمل کی حمایت کی تھی۔

گزشتہ سال کے اواخر میں امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج نے افغانستان میں اپنا لڑاکا مشن کو ختم کر دیا تھا لیکن امریکہ اور نیٹو کے لگ بھگ 12000 اہلکار افغان فورسز کو تربیت دینے کے لیے اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG