رسائی کے لنکس

logo-print

ہلمند: طالبان کا چوکی پر حملہ، کم از کم 10 فوجی ہلاک


فائل

طالبان نے جنوبی افغانستان کے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 فوجی ہلاک جب کہ چار زخمی ہوئے ہیں۔

افغان فوج کی جانب سے ہفتے کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ باغیوں نے علی الصبح بموں اور اسلحے کی مدد سے صوبہ ہلمند میں حملہ کیا، جہاں کے زیادہ تر اضلاع طالبان کے زیر کنٹرول ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان، عمر زواک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ضلع سنگین میں واقع ایک تنصیب پر دھاوا بولنے سے قبل حملہ آوروں نے بم دھماکہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد چِھڑنے والی جھڑپیں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں، جس میں دونوں جانب ہلاکتیں واقع ہوئیں۔ زواک نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

تاہم، ایک مقامی افغان شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ طالبان حملے میں 17 فوجی ہلاک، جب کہ چھ زخمی ہوئے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے خبریں جاری کی ہیں کہ فوجی اڈے تک پہنچنے کے لیے طالبان نے ایک سرنگ کھودی تھی۔

طالبان کے ترجمان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے عسکریت پسندوں نے فوجی چوکی پر چڑھائی کی جس میں 26 افغان فوجی مارے گئے، جب کہ سرکشوں کے دعوے اکثر مبالغہ آرائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ضلع سنگین کا زیادہ تر علاقہ باغیوں کے زیر قبضہ ہے۔

اس ہفتے طالبان مختلف صوبوں میں افغان افواج کے خلاف کئی بار حملے کر چکے ہیں، جن میں درجنوں ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں، جب کہ وہ مزید علاقے پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ پیر کو شمالی صوبہ قندوز میں ایسا ہی ایک حملہ ہوا جس میں ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا۔

باوجود اس بات کے کہ امریکہ نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ مشکل سے دوچار امن عمل کو فروغ دینے کے لیے وہ تشدد کی کارروائیاں بند کریں، جس کا مقصد یہ ہے کہ بین الافغان مذاکرات کا آغاز کیا جائے، تاکہ 18 سال سے جاری لڑائی کا خاتمہ ممکن ہو۔

طالبان اس بات پر بضد ہیں کہ ملک بھر میں جنگ بندی تب ہی قائم ہوگی جب امریکہ کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط ہوں گے، جس میں ملک سے تمام امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا شامل ہوگا۔

اقوام متحدہ نے جمعرات کو بتایا کہ 18 برس سے جاری مخاصمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد افغان شہری ہلاک چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG