رسائی کے لنکس

logo-print

قندوز: طالبان کے حملے میں افغان پولیس کے 17 اہلکار ہلاک


فائل فوٹو

افغانستان کے صوبے قندوز میں طالبان نے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے جس میں افغان پولیس کے 17 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

حملہ پیر کی رات کو قندوز کے ضلع علی آباد میں کیا گیا جب کہ شدت پسندوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹے جاری رہا۔

قندوز کے ایک ضلعی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں پولیس کے اعلٰی افسر بھی شامل ہیں۔

قندوز کے پولیس ترجمان انعام الدین رحمان نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی۔ البتہ، انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

دوسری جانب حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے یہ حملہ کیا ہے جس میں افغان سکیورٹی فورسز کے 20 اہلکار مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کا صوبہ قندوز ان علاقوں میں شامل ہے جس کے متعدد اضلاع پر طالبان کا قبضہ ہے۔ قندوز کا صوبائی دارالحکومت بھی دو بار طالبان کے قبضے میں جا چکا ہے۔ تاہم، بعد ازاں افغان سیکورٹی فورسز نے امریکی فوج کی مدد سے اس علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ازسر نو کوششیں شروع کی ہیں۔ اس ضمن میں وہ بیلجیم، فرانس اور روس کا دورہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات معطل کر دیے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

امریکی صدر نے مذاکرات کو مردہ قرار دیا تھا جس کے بعد سے اب تک امریکہ کی طرف سے افغان طالبان کے ساتھ امن مذکرات کی بحالی کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا ہے۔

البتہ، افغان امن مذاکرات معطل ہونے کے بعد امریکہ کے نمائندہ خصوصی خلیل زاد نے اکتوبر کے اوائل میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے پاکستان میں موجود طالبان کے نمائندوں سے ملاقات بھی کی تھی۔ لیکن باضابطہ طور پر فریقین کی جانب سے اس ملاقات کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG