رسائی کے لنکس

logo-print

مُلا برادر: پاکستان کی قید سے پاکستان کے دارالحکومت تک


فائل فوٹو

قطر میں مقیم افغان طالبان رہنماؤں پر مشتمل 12 رکنی وفد پاکستانی حکام سے مذاکرات اور ملاقات کے لئے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ پاکستان آئے ہوئے 12 رکنی طالبان رہنماؤں کے وفد کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر ہیں۔

ملا عبدالغنی برادر ان طالبان رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے پچھلے سال 24 اکتوبر 2018 کو لگ بھگ آٹھ سال پاکستان کے قید خانوں میں گزارنے کے بعد رہائی پائی تھی۔

ملا عبدالغنی برادر کے ساتھ قید کے دوران حکام کا سلوک کیسا رہا اس بارے میں صرف ملا عبدالغنی برادر ہی کچھ بتا سکتے ہیں۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق قید کے دوران ملا عبدالغنی برادر کو ذیابطیس اور دیگر بیماریاں لاحق ہوئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ 24 اکتوبر 2018 کو رہا ہونے کے بعد ملا عبد الغنی برادر کو کراچی کے نجی اسپتال سے علاج کرانا پڑا تھا۔

مبصرین خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ 12 رکنی طالبان رہنماؤں کے وفد کے دورہ پاکستان سے اسلام آباد اور واشنگٹن کس قدر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

افغانستان کے جنوبی صوبہ ازرگان سے تعلق رکھنے والے 51 سالہ ملا عبدالغنی برادر 1968 میں پیدا ہوئے جب کہ اُن کے زمانہ طالب علمی کے دوران افغانستان میں سابق سویت یونین کی افواج کے داخلے کے ساتھ جنگ چھڑ گئی تھی

ملا عبد الغنی برادر اور ان کے اہل خانہ بھی ان لوگوں میں شامل رہے جنہوں نے جنگ کی وجہ سے گھر بار اور ملک چھوڑ کر پاکستان میں پناہ لی۔ اس وقت افغانستان کے جنوبی صوبوں کے زیادہ تر لوگ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں رہائش پذیر تھے۔ ملا عبدالغنی برادر اور ان کے دیگر قریبی رشتہ دار بھی کوئٹہ کے نزدیک کچلاک میں رہے۔

افغان جنگ میں شمولیت

سویت یونین کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے مختلف ناموں سے جہادی گروہ بنے تھے۔ افغانستان میں لڑنے والے گروپس میں سے سات گروہوں نے پشاور میں اتحاد قائم کیا تھا جب کہ ان میں مولوی محمد نبی محمدی کا گروہ 'حرکت الاسلام' بھی شامل تھا۔ ملا عبد الغنی برادر اپنے قریبی دوست اور ساتھی ملا محمد عمر اخوند سمیت اس گروپ میں شامل رہے تھے۔

اسی گروپ میں طالبان کے نام سے ایک اور گروپ سامنے آیا جن میں ملا محمد عمر اخوند اور ملا عبدالغنی برادر کے علاوہ سابق صدر حامد کرزئی کے قریبی رشتہ دار ملا عبید اللہ بھی شامل تھے۔ ملا عبید اللہ چند سال قبل پاکستان میں دوران قید انتقال کر گئے تھے۔

افغانستان سے سویت یونین کے انخلا اور ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد طالبان کے نام سے ایک چھوٹا سا گروپ مولوی محمد یونس خالص کی حزب اسلامی کا حصہ بن گیا تھا۔ بعد ازاں، اکتوبر 1994 میں یہ گروپ الگ ہوا اور اس نے اپنا نام 'تحریک طالبان افغانستان' رکھا جو کہ طالبان کہلاتے ہیں۔

تعلیم و تربیت

ملا محمد عمر کی طرح ملا عبدالغنی برادر نے بھی کسی مدرسے یا تعلیمی ادارے سے تعلیم مکمل نہیں کی۔ اسی لیے وہ خود کو طالب کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔

ملا عبدالغنی برادر کو طالبان کے ذہین اور سمجھدار رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے از خود مختلف زبانوں پر بھی عبور حاصل کیا جب کہ پشتو اور دری کے علاوہ وہ عربی، اردو اور انگریزی میں گفت و شنید کر سکتے ہیں۔

طالبان تحریک

اپریل 1992 میں جب افغانستان ہی کے چند خود ساختہ کمانڈرز اور جنرلز نے مل کر اقوام متحدہ کے امن منصوبے کو ناکام بنایا تو تخت کابل کے لیے مختلف گروہوں میں جنگ شروع ہوئی۔

احمد شاہ مسعود کی شوریٰ نظار، انجینئر گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی، پروفیسر عبدالرب رسول سیاف کی اتحاد اسلامی افغانستان اور عبد العلی مزاری کی حزب وحدت کے درمیان جنگ و جدل کا آغاز ہوا۔

مبصرین کے مطابق چند دن میں ہی کابل میں اتنی تباہی ہوئی کہ وہ سویت یونین کے 13 سالہ جنگ کے دور میں بھی نہیں ہوئی تھی۔ مختلف جہادی گروہوں اور جنگی کمانڈرز کے مابین محاذ آرائی کا سلسلہ کئی برسوں تک جاری رہا۔

اس محاذ آرائی نے افغان قوم کی اکثریت کو سخت مایوس کر دیا تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ مایوس ہو کر دیگر ممالک ہجرت کرنے لگے تھے۔

اکتوبر 1994 میں اچانک ہی 'تحریک طالبان افغانستان' نے ملا محمد عمر اخوند کے سربراہی میں جنم لیا اور ملا عبد الغنی برادر اس تحریک کے نائب سربراہ کے طور پر سامنے آئے۔ وہ نہ صرف ملا عمر کے نائب تھے بلکہ ان کا شمار ان کے قریبی اور با اعتماد ساتھیوں میں تھا۔

تحریک طالبان افغانستان کا قیام قندھار کے سرحدی علاقے میوند میں ایک مدرسے میں ہوا تھا۔ یہ مدرسہ ملا عمر اور ملا غنی برادر نے مشترکہ طور پر قائم کیا تھا۔

جس وقت تحریک طالبان افغانستان قائم ہوئی تو ملا عبد الغنی برادر اس کے نائب سربراہ مقرر ہوئے بعد میں جب تحریک طالبان نے تیزی سے افغانستان کے جنوبی اور مغربی صوبوں پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے ملا عبدالغنی برادر کو پہلے نمروز اور بعد میں ایران سے ملحقہ صوبے ہرات کا گورنر بنایا گیا۔

مُلا عبد الغنی برادر — فائل فوٹو
مُلا عبد الغنی برادر — فائل فوٹو

طالبان کے دور میں ملا عبد الغنی برادر کو امارات اسلامی افغانستان کی اسلامی فوج کے مغربی زون کا کور کمانڈر بنایا گیا۔ بعد میں وہ طالبان حکومت میں مرکزی فوج کے ڈپٹی کمانڈر اور 1999 میں فوج کے سربراہ بنائے گئے۔

اس دوران ان کو وزیر دفاع اور نائب وزیر داخلہ کی ذمہ داریاں بھی دی گئیں۔

مبینہ طور پر نومبر 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے پر ملا عبد الغنی نے موٹر سائیکل پر سفر کرکے نہ صرف اپنی بلکہ ملا عمر کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

طالبان کے دونوں اہم رہنما دیگر ساتھیوں کے ہمراہ قندھار کے قریب پہاڑوں پر پہنچے اور کئی سال تک مبینہ طور پر وہاں روپوش رہے۔

حامد کرزئی پر حملہ ناکام بنانے میں اہم کردار

طالبان حکومت کے خاتمے سے قبل جب 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں حملے ہوئے تو واشنگٹن نے افغانستان پر حملے کی تیاری شروع کی اور اس کے ساتھ ہی سابق صدر حامد کرزئی سمیت کئی رہنماؤں کو مختلف علاقوں میں سیاسی جدوجہد کے آغاز کا مشورہ دیا گیا۔

حامد کرزئی اپنے آبائی صوبے ازرگان چلے گئے۔ ازرگان پہنچنے کے بعد طالبان جنگجوؤں نے بھی مبینہ طور پر حامد کرزئی پر حملے کی کوشش کی تھی مگر ملا عبد الغنی برادر نے اس کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ملا عبدالغنی برادر اور حامد کرزئی کا تعلق افغانستان کے ایک ہی پوپلزئی دُرانی قبیلے سے تھا۔

تحریک طالبان افغانستان کی بنیاد رکھنے والے ایک اور رہنما ملا عبید اللہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سابق صدر حامد کرزئی کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھے۔

کوئٹہ شوریٰ

طالبان حکومت کے خاتمے کے چھ سال بعد 2007 تک تحریک طالبان افغانستان کے جنگجو مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے مگر آپس کے اختلافات کے باعث ان کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔

صوبہ ہلمند میں 2007 میں ایک جھڑپ ملا داداللہ کے ہلاک ہونے کے بعد طالبان میں ملا داداللہ کے نام سے ایک گروہ وجود میں آیا جس نے مکمل طور پر ملا عمر کی مخالفت کا اعلان کیا۔

اس واقعے کے بعد 2007 میں کوئٹہ شوریٰ قائم کی گئی جب کہ ملا عبد الغنی برادر نہ صرف شوریٰ کے سیاسی بلکہ ملٹری سربراہ بھی بن گئے۔ مبینہ طور پر انہوں نے کوئٹہ ہی سے افغانستان کے اندر مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنے والوں کی قیادت کی تھی۔

افغان مصالحتی عمل

نومبر 2001 میں طالبان حکومت کی حکومت کا خاتمہ ہوا جب کہ حامد کرزئی جرمنی کے شہر بون میں ہونے والے معاہدے کے تحت افغانستان کے صدر بن گئے۔

انہوں نے سب سے پہلے افغانستان میں قیام امن کے لیے ایک مصالحتی پالیسی بنائی۔ اس پالیسی کے تحت انہوں نے مختلف محاذوں پر مزاحمت کرنے والوں کو صلح کے پیغامات بھیجوائے جب کہ ان پیغامات کے نتیجے میں کئی اہم رہنماؤں نے کابل جا کر افغانستان کے سیاسی عمل میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان رہنماؤں میں عبد الحکیم مجاہد، ملا عبدالسلام ضعیف، مولوی وکیل احمد متوکل اور مولوی ارسلان رحمانی سمیت کئی ایک نمایاں تھے۔

صدر حامد کرزئی نے 2004 اور 2009 میں ملا عبد الغنی برادر سے رابطہ کرکے ان سے قیام امن میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔

ملا عبد الغنی برادر نے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہائی بھی کرائی تھی۔

ملا عبدالغنی برادر نے دیگر ساتھیوں سے مشورہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ کوئٹہ کے بعد جب فروری 2010 میں کراچی پہنچے تو ان کو تحقیقاتی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

کراچی میں ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری کو امریکہ نے اہم پیش رفت قرار دیا تھا مگر افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ایک ملاقات میں حامد کرزئی نے تصدیق کی تھی کہ وہ نہ صرف افغان طالبان کے ساتھ مفاہمت اور مصالحت کے لیے کوشاں تھے بلکہ ان کی کوشش تھی کہ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی مسلح مزاحمت بھی ختم ہو۔ اسی لیے حامد کرزئی نے امریکہ اور پاکستان کی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

کراچی میں ملا عبد الغنی برادر کی گرفتاری کے بعد زیادہ تر طالبان رہنما ناراض ہو گئے تھے۔ مبینہ طور پر کچھ رہنما خفیہ طور پر افغانستان منتقل ہوئے جب کہ طالبان رہنماؤں نے بعد میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کی معاونت سے سیاسی دفتر کھول لیا تھا اور انہوں نے افغانستان میں امن کے لیے امریکہ سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس دوران نہ صرف مختلف ممالک کے اعلی عہدے داروں نے دوحہ جا کر طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے تھے بلکہ کئی ممالک نے باضابطہ طور پر طالبان رہنماؤں کو دوروں کی دعوت بھی دی تھی۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بار بار مطالبات پر نومبر 2012 میں پاکستان کی حکومت نے گرفتار طالبان رہنماؤں کو مذاکرات کے لیے رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومت نے ملا عبد الغنی برادر کو بھی رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، آخری وقت میں ان 10 رہنماؤں کی فہرست سے ان کا نام خارج کر دیا گیا تھا جس پر حامد کرزئی کی حکومت نے شدید تنقید کی تھی۔

پچھلے سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان مسئلے کے حل کے لیے زلمے خلیل زاد کو خصوصی ایلچی مقرر کیا۔

اُنہوں نے ستمبر اور اکتوبر 2018 میں اسلام آباد اور کابل کا تفصیلی دورہ کیا اور اس دوران انہوں نے دونوں ممالک میں قید بعض طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان کی حکومت نے 24 اکتوبر 2018 کو ملا عبد الغنی برادر کو رہا کر دیا تھا مگر وہ فروری 2019 تک پاکستان ہی میں رہے تھے۔

اس دوران سعودی شہزادے محمد بن سلمان وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر اسلام آباد آئے تھے اور ان کے شیڈول میں دوحہ سے آنے والے طالبان رہنماؤں کے ساتھ ملاقات بھی طے تھی۔

عبد الغنی برادر بھی اس وفد میں شامل تھے مگر بعض تحفظات کی وجہ سے طالبان رہنماؤں نے اسلام آباد آنے سے انکار کر دیا تھا۔

فروری 2019 میں ملا عبد الغنی برادر پاکستان سے قطر چلے گئے۔ وہاں پہنچنے کے بعد ان کو دوحہ کے سیاسی دفتر کا سربراہ بنا دیا گیا۔

اس دوران ملا عبد الغنی برادر نے نہ صرف امریکہ کےخصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد سے ملاقاتوں میں طالبان کی نمائندگی کی بلکہ دوحہ آنے والے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سے بات چیت میں بھی حصہ لیا۔

خیال رہے کہ طالبان کے اہم رہنما ملا عبد الغنی نے دو شادیاں کی ہیں جب کہ ان کا بڑا بیٹا بھی ان کے ساتھ دوحہ میں رہائش پذیر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG