رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کا بجلی گھر پر حملہ، کابل سمیت ایک تہائی افغانستان تاریکی میں ڈوب گیا


فائل فوٹو

طالبان نے افغانستان کے صوبے بغلان میں واقع بجلی گھر ’دا افغانستان بریشنا شرکت‘ (DABS) کے تین ٹاور کو تباہ کر دیا ہے جس سے دارالحکومت کابل سمیت ملک کا ایک تہائی حصہ تاریکی میں ڈوب گیا۔

یہ افغانستان کا سب سے بڑا بجلی گھر ہے جسے طالبان نے اتوار کو نشانہ بنایا تھا۔ بجلی گھر کے حکام نے پیر کو بتایا کہ ہمسایہ ممالک ازبکستان اور تاجکستان سے درآمد کی جانے والی بجلی کو یہاں سے ملک بھر میں فراہم کیا جاتا ہے۔

بجلی گھر کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ملک کے 34 صوبوں میں سے 11 مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب گئے جن میں دارالحکومت کابل بھی شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق طالبان نے ان تینوں ٹرانسمیشن ٹاورز کی بنیادوں میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کے بعد انہیں ریموٹ سے اڑا دیا، جس سے یہ ٹاور تباہ ہو گئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی اس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ دارالحکومت کابل میں ان کے لیے بجلی مکمل طور پر بند کر دینا کس قدر آسان ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ وہ بجلی گھروں پر ایسے حملے اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک حکومت بغلان اور قندوز سمیت طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں بجلی فراہم نہیں کرتی۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کی منسوخی کے بعد حالیہ دنوں میں بغلان سمیت افغانستان کے شمالی صوبوں میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔

ڈی اے بی ایس بجلی گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے ٹاورز کی بحالی کے لیے ملحقہ صوبوں سے انجینئرز بغلان پہنچ گئے ہیں۔

افغانستان ملکی طلب کی 25 فی صد بجلی خود پیدا کرتا ہے جب کہ بقیہ 75 فیصد ہمسایہ ملک ازبکستان سے درآمد کی جاتی ہے۔ ازبکستان سے بجلی کی ترسیل کی لائنز اکثر تخریب کاروں کے حملوں کی زد میں رہتی ہیں جس کے باعث بیشتر افراد ڈیزل جنریٹر پر انحصار کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG