رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی وزیر خارجہ کا افغان امن معاہدے پر دستخط سے انکار: ٹائم میگزین


افغانستان کے شہر قندوز کے مضافات میں طالبان جنگجو اپنے ہتھیاروں کے ساتھ ۔ فائل فوٹو

افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم کئی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس امکانی معاہدے سے منسلک شدید نوعیت کے خدشات کے باعث امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس پر دستخط سے انکار کر دیا ہے۔

امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بات چیت کے 9 ادوار کے بعد ایک معاہدہ طے پایا ہے۔

اس معاہدے سے نائن الیون کے حملوں کے بعد افغانستان میں امریکی قیادت میں غیر ملکی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد امن کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

اس معاہدے کے تحت افغانستان میں امریکہ کی 18 سالہ جنگ کا خاتمہ ہو سکے گا۔ تاہم اب تک وہ امور سامنے نہیں آئے جن پر دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے۔

طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے خصوصی امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد
طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے خصوصی امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد

معاہدے کی بریفنگز میں شرکت کرنے والے ایک افغان عہدے دار نے بتایا کہ کوئی بھی شخص معاہدے پر کھل کر بات کرنے پر تیار نہیں ہے۔ یہ معاہدہ کلی طور پر توقعات پر مبنی ہے۔ تاہم معاہدے میں اعتماد دکھائی نہیں دے رہا۔

امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات پر بات چیت کرنے والے تھے۔ اگر ٹرمپ نے معاہدے کی منظوری دے دی تو افغانستان سے فوجی انخلا شروع ہو جائے گا اور تقریباً 5400 فوجی وہاں سے نکال لیے جائیں گے۔ یہ واپسی پانچ فوجی مراکز سے 135 دنوں میں مکمل ہو گی۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر، فائل فوٹو
امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر، فائل فوٹو

تاہم عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں کئی اہم چیزوں سے متعلق یقین دہانی موجود نہیں ہے۔

'ٹائم میگزین' نے اپنی 4 ستمبر کی اشاعت میں لکھا ہے کہ معاہدے میں القاعدہ کے خلاف جنگ کے لیے امریکہ کی انسداد دہشت گردی فورسز کی مسلسل موجودگی کی ضمانت فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ گارنٹی موجود ہے کہ کابل کی امریکہ نواز حکومت قائم رہے گی، جب کہ افغانستان میں لڑائیوں کے خاتمے کی بھی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔

خلیل زاد کے ساتھ معاہدے کی بریفنگز میں شرکت کرنے والے عہدے دار کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کی نیک نیتی اور اخلاص کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ اور ایسا ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے امریکیوں کو بے وقوف بنا دیا ہے۔ جب کہ امریکیوں کا خیال ہے کہ اگر طالبان نے دھوکہ دیا تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو ایک امریکی ٹیلی وژن سے انٹرویو کے دوران۔ فائل فوٹو
وزیر خارجہ مائیک پومپیو ایک امریکی ٹیلی وژن سے انٹرویو کے دوران۔ فائل فوٹو

'ٹائم' کی رپورٹ میں عہدے داروں کے حوالے سے، جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، کہا گیا ہے کہ شاید انہی خدشات کی وجہ سے مائیک پومپیو معاہدے پر اپنا نام دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے کی بات چیت سے واقف امریکہ، افغانستان اور یورپ کے چار عہدے داروں نے 'ٹائم' کو بتایا کہ طالبان نے کہا ہے کہ مائیک پومپیو، اسلامی امارات افغانستان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کریں، جو طالبان کی اس حکومت کا سرکاری نام تھا، جسے انہوں نے 1996 میں قائم کیا تھا۔

دوحہ میں طالبان اور امریکی وفد کے درمیان امن مذاکرات، فائل فوٹو
دوحہ میں طالبان اور امریکی وفد کے درمیان امن مذاکرات، فائل فوٹو

افغان عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے پر امریکی وزیر خارجہ کے دستخط کرنے کا مطلب طالبان کو ایک قانونی سیاسی اکائی کے طور پر تسلیم کرنا ہو گا، جس کی وجہ سے پومپیو نے معاہدے کی دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

تاہم پومپیو کے دفتر نے اس سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا ہے۔

میگزین نے لکھا ہے کہ اس صورت میں دو متبادل موجود ہیں۔ اول یہ کہ خلیل زاد خود معاہدے پر دستخط کر دیں۔ یا امریکہ اور طالبان ایک مشترکہ بیان جاری کریں جس کی حمایت امریکہ کی سرپرستی میں قائم کابل کی حکومت کرے اور پھر جاپان، روس اور چین سمیت متعدد ملک اس کی حمایت کا اعلان کریں۔

امریکی فوجی افغانستان میں ایک آپریشن کے لیے جا رہے ہیں۔ فائل فوٹو
امریکی فوجی افغانستان میں ایک آپریشن کے لیے جا رہے ہیں۔ فائل فوٹو

افغانستان میں خدمات سر انجام دینے والی امریکی فوج، انٹیلی جنس اور سفارتی عہدے داروں کو خدشہ ہے کہ اگر افغانستان سے فوجوں کی واپسی شروع ہو گئی تو پھر اسے پلٹنا مشکل ہو گا، جس کی وجہ صدر ٹرمپ کا افغان جنگ میں امریکی شرکت کے خاتمے کا وعدہ، 2020 کے صدارتی انتخابات اور لوگوں کی حمایت کا فقدان ہے۔

اُنہیں خدشہ ہے کہ امن کی قیمت کا نتیجہ، سخت محنت کے ساتھ تقریباً دو عشروں کی جنگ کے بعد ایک مستحکم حکومت کی جانب پیش قدمی کا عمل رک جانے، افغانستان میں انسانی اور خواتین کے حقوق کے خاتمے، ناتواں قومی، علاقائی اور مقامی حکومتوں، فوج اور نفاذ قانون کی فورسز کے زوال اور بدعنوانی کے فروغ کی صورت میں نکلے گا۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ افغانوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اُنہیں کس پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ لیکن انہیں یہ معلوم ہے کہ صدر ٹرمپ یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

زلمے خلیل زاد کی بریفنگ میں شامل ایک افغان عہدے دار کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم اسے روک نہیں سکتے۔ تاہم یہ الگ بات ہے کہ واشنگٹن میں اس فیصلے کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG