رسائی کے لنکس

logo-print

ہیبت اللہ اخونزادہ افغان طالبان کے نئے امیر مقرر


بدھ کو ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک بیان میں عسکریت پسند گروپ کا کہنا تھا کہ مولوی ہیبت اللہ کو طالبان رہنماؤں کے ایک اجلاس میں منتخب کیا گیا۔

افغان طالبان نے اپنے سابق امیر ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔

مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ اور سراج الدین حقانی ڈرون حملے میں مارے جانے والے ملا اختر منصور کے نائبین تھے۔

طالبان کی طرف سے پشتو زبان میں جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ سراج الدین حقانی اور طالبان کے بانی رہنما ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب اب مولوی ہیبت اللہ کے نائبین کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔

طالبان کی طرف سے کہا گیا کہ ہیبت اللہ اخونزادہ کو متفقہ طور پر نیا سربراہ مقرر کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ قیادت کے انتخاب کے لیے مشاورتی اجلاس کہاں ہوا۔

ملا منصور گزشتہ ہفتے پاکستان میں افغان سرحد کے قریب واقع علاقے احمدوال میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

امریکہ نے اس حملے کے دو روز بعد ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق کر دی تھی۔

واضح رہے کہ ملا منصور طالبان کے بانی رہنما ملا عمر کے نائب کے طور پر کام کرتے رہے جب کہ ملا عمر کے 2013ء میں انتقال کے بعد بھی وہ طالبان کے اُمور چلاتے رہے۔

ملا عمر کا انتقال اگرچہ 2013ء میں ہو چکا تھا لیکن اُس کی تصدیق 2015ء میں کی گئی، جس کے بعد باضابطہ طور پر ملا اختر منصور کو طالبان کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

اُنھیں ابتدا میں طالبان کے بہت سے دھڑوں بشمول ملا عمر کے بیٹے کی طرف سے بھی طالبان کا سربراہ قبول نہیں کیا گیا تاہم بعد میں ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب سمیت کئی دیگر سینیئر طالبان نے اُن کی بیعت کر لی تھی۔

XS
SM
MD
LG